جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

میاں نواز شریف کی صحت سنبھلنے کی بجائے بگڑتی چلی جا رہی ہے‘ طبی ٹیم نے مریض کی حالت کو حساس قرار دے دیا ہے‘اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کاذمہ دار کون ہوگا؟حکومت نے مولانافضل الرحمان کو آزادی مارچ کی اجازت دیدی،اب کیا ہونے والا ہے؟جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 23  اکتوبر‬‮  2019 |

میاں نواز شریف کی صحت سنبھلنے کی بجائے بگڑتی چلی جا رہی ہے‘ کل انہیں پلیٹ لیٹس دیے گئے تھے‘ ڈاکٹروں کا خیال تھا خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد 25 ہزار ہو جائے گی تو یہ ملٹی پلائی ہونے لگیں گے لیکن ڈاکٹروں کا خیال غلط ثابت ہو گیا‘

پلیٹ لیٹس بڑھنے کی بجائے تیزی سے گرنے لگے اور یہ آج شام 29 ہزار سے سات ہزار پر آ گئے یوں محسوس ہو رہا ہے میاں نواز شریف کا جسم نئے پلیٹ لیٹس بھی پیدا نہیں کر رہا اور یہ باہر سے داخل ہونے والے پلیٹ لیٹس کو بھی تباہ کر رہا ہے چناں چہ صورت حال تشویش ناک ہوتی چلی جا رہی ہے‘ طبی ٹیم نے مریض کی حالت کو حساس قرار دے دیا ہے‘ حکومت نے اس تشویش ناک حالت کی وجہ سے مریم نواز کو والد سے ملاقات کی اجازت دے دی‘ نیب حکام انہیں سروسز ہسپتال لا رہے ہیں‘ مریم نواز کی آمد ثابت کرتی ہے نواز شریف کی حالت زیادہ خراب ہو چکی ہے کیوں کہ دن کے وقت مریم نواز کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی، نواز شریف کی فیملی اور پارٹی دونوں بار بار کہہ رہے ہیں اگر میاں نواز شریف کو کچھ ہوا تو عمران خان ذمہ دار ہوں گے جب کہ عمران خان کا کہنا ہے میں کوئی ڈاکٹر ہوں‘ میں کیوں ذمہ دار ہوں گا‘ کون ذمہ دار ہے؟ حکومت نے آزادی مارچ کی مشروط اجازت دے دی تاہم مولانا کو قانون اور آئین کے دائرے میں رہنا ہوگا‘ یہ دائرہ کیا ہے‘ یہ کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم ہو جاتا ہے اس کا فیصلہ کون کرے گا؟

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…