ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان میں میڈیا قابو سے باہر ہے ایک بندہ TV پر بیٹھ کر ملک کے وزیراعظم کے بارے میں کہتا ہے کل اسکی طلاق ہونے والی ہے، یہ آزادی میڈیا کو شائد امریکہ میں بھی نہیں حاصل،عمران خان کا جواب

datetime 23  جولائی  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی میڈیا کو برطانوی میڈیا سے زیادہ آزاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خود آزاد میڈیا کا سب سے بڑا بینی فشری ہوں، پاکستان میں 70سے 80ٹی وی چیلنجز ہیں جن میں تین کہتے ہیں مسائل کا سامنا ہے،میڈیا کا کام ذاتی حملے کر نا نہیں، میڈیا اپوزیشن کرے بلیک میلنگ نہ کرے، میڈیا کا بھی احتساب ہو ناچاہیے، پاناما پیپرز آئے تو ایک طاقتور میڈیا نوازشریف کے دفاع میں سامنے آگیا،

ہم میڈیا پر نظر رکھیں گے سنسر شپ نہیں کرینگے۔ منگل کو امریکی تھنک ٹینک سے خطاب اور سوالوں کے جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو پوری آزادی حاصل ہے یہاں تک کے میڈیا بے قابو بھی ہوجاتا ہے،پاکستان میں میڈیا صرف آزاد نہیں قابو سے باہر ہے، آپ اندازہ لگا لیں کہ ایک بندہ TV پر بیٹھ کر ملک کے وزیراعظم بارے کہتا ہے کل اسکی طلاق ہونے والی ہے، یہ آزادی میڈیا کو شائد امریکہ میں بھی نہیں حاصل، پاکستان جیسا میڈیا دنیا میں کہیں نہیں،میں خودآزاد میڈیا کا سب سے بڑا بینی فشری ہوں، ہم حکومت کے طور پر میڈیا کو کنٹرول نہیں کرنا چاہتے بلکہ واچ ڈوگ کے ذریعے اسے قابو کرنا چاہتے ہیں، پاکستان میں 70 سے 80 ٹی وی چینلز ہیں جس میں سے 3 چینلز کہتے ہیں انہیں مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہاکہ میڈیا کا کام ذاتی حملے کرنا نہیں ہے، میڈیا اپوزیشن کرے لیکن بلیک میلنگ نہ کرے، میڈیا کا بھی احتساب ہونا چاہیے، جب میڈیا مالکان سے ان کی آمدنی اور ٹیکس کا سوال کریں تو وہ کہتے ہیں یہ آزادی اظہار رائے کے خلاف ہے۔ ہم میڈیا پر نظر رکھیں گے لیکن سنسر شپ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہاکہ امریکا میں بھی میڈیا کو اتنی چھوٹ نہیں کہ وہ برسراقتدار حکومت کے وزیراعظم کی ذاتی زندگی کے بارے میں منفی رائے قائم کرے۔وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے دور میں صحافی غائب ہو جایا کرتے تھے، مسلم لیگ (ن) کے دور میں صحافیوں کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست کو میڈیا کنٹرول نہیں کرنا چاہیے لیکن ایک ریگولیٹری اتھارٹی میڈیا کے معیارات کا جائزہ لے۔انہوں نے کہاکہ ملک ایک طرف مالی خسارے سے دوچار ہے اور اس پر میڈیا آئی ایم ایف کا حوالہ دے کر روپے کی قدر میں کمی سے متعلق غلط خبریں چلارہا ہے، ایسا کہاں ہوتا ہے؟عمران خان نے کہا کہ یہ سینسر شپ نہیں ہے لیکن ہم نگراں اداروں کو مضبوط بنائیں گے۔انہوں ے کہا کہ اپوزیشن جماعت جج کو بلیک میل کرنے کیلئے وڈیو لے آئی، ایسا مافیا میں ہوتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہمیں دونوں پارٹیوں کو شکست دینے میں مدد ملی، نواز شریف نے لندن میں مہنگے ترین فلیٹ خریدے، نواز شریف سے آمدنی کے ذرائع پوچھے تو وہ نہ بتا سکے، پاناما پیپرز آئے تو ایک طاقتور میڈیا نوازشریف کے دفاع میں سامنے آگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…