جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

پاکستان میں میڈیا قابو سے باہر ہے ایک بندہ TV پر بیٹھ کر ملک کے وزیراعظم کے بارے میں کہتا ہے کل اسکی طلاق ہونے والی ہے، یہ آزادی میڈیا کو شائد امریکہ میں بھی نہیں حاصل،عمران خان کا جواب

datetime 23  جولائی  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی میڈیا کو برطانوی میڈیا سے زیادہ آزاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خود آزاد میڈیا کا سب سے بڑا بینی فشری ہوں، پاکستان میں 70سے 80ٹی وی چیلنجز ہیں جن میں تین کہتے ہیں مسائل کا سامنا ہے،میڈیا کا کام ذاتی حملے کر نا نہیں، میڈیا اپوزیشن کرے بلیک میلنگ نہ کرے، میڈیا کا بھی احتساب ہو ناچاہیے، پاناما پیپرز آئے تو ایک طاقتور میڈیا نوازشریف کے دفاع میں سامنے آگیا،

ہم میڈیا پر نظر رکھیں گے سنسر شپ نہیں کرینگے۔ منگل کو امریکی تھنک ٹینک سے خطاب اور سوالوں کے جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو پوری آزادی حاصل ہے یہاں تک کے میڈیا بے قابو بھی ہوجاتا ہے،پاکستان میں میڈیا صرف آزاد نہیں قابو سے باہر ہے، آپ اندازہ لگا لیں کہ ایک بندہ TV پر بیٹھ کر ملک کے وزیراعظم بارے کہتا ہے کل اسکی طلاق ہونے والی ہے، یہ آزادی میڈیا کو شائد امریکہ میں بھی نہیں حاصل، پاکستان جیسا میڈیا دنیا میں کہیں نہیں،میں خودآزاد میڈیا کا سب سے بڑا بینی فشری ہوں، ہم حکومت کے طور پر میڈیا کو کنٹرول نہیں کرنا چاہتے بلکہ واچ ڈوگ کے ذریعے اسے قابو کرنا چاہتے ہیں، پاکستان میں 70 سے 80 ٹی وی چینلز ہیں جس میں سے 3 چینلز کہتے ہیں انہیں مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہاکہ میڈیا کا کام ذاتی حملے کرنا نہیں ہے، میڈیا اپوزیشن کرے لیکن بلیک میلنگ نہ کرے، میڈیا کا بھی احتساب ہونا چاہیے، جب میڈیا مالکان سے ان کی آمدنی اور ٹیکس کا سوال کریں تو وہ کہتے ہیں یہ آزادی اظہار رائے کے خلاف ہے۔ ہم میڈیا پر نظر رکھیں گے لیکن سنسر شپ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہاکہ امریکا میں بھی میڈیا کو اتنی چھوٹ نہیں کہ وہ برسراقتدار حکومت کے وزیراعظم کی ذاتی زندگی کے بارے میں منفی رائے قائم کرے۔وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے دور میں صحافی غائب ہو جایا کرتے تھے، مسلم لیگ (ن) کے دور میں صحافیوں کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست کو میڈیا کنٹرول نہیں کرنا چاہیے لیکن ایک ریگولیٹری اتھارٹی میڈیا کے معیارات کا جائزہ لے۔انہوں نے کہاکہ ملک ایک طرف مالی خسارے سے دوچار ہے اور اس پر میڈیا آئی ایم ایف کا حوالہ دے کر روپے کی قدر میں کمی سے متعلق غلط خبریں چلارہا ہے، ایسا کہاں ہوتا ہے؟عمران خان نے کہا کہ یہ سینسر شپ نہیں ہے لیکن ہم نگراں اداروں کو مضبوط بنائیں گے۔انہوں ے کہا کہ اپوزیشن جماعت جج کو بلیک میل کرنے کیلئے وڈیو لے آئی، ایسا مافیا میں ہوتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہمیں دونوں پارٹیوں کو شکست دینے میں مدد ملی، نواز شریف نے لندن میں مہنگے ترین فلیٹ خریدے، نواز شریف سے آمدنی کے ذرائع پوچھے تو وہ نہ بتا سکے، پاناما پیپرز آئے تو ایک طاقتور میڈیا نوازشریف کے دفاع میں سامنے آگیا۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…