عام انتخابات 2018ء کے نتائج، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو کتنی قومی اسمبلی کی نشستیں ملیں گی؟ حکومت کون بنائے گا؟ معروف صحافی نے پہلے ہی نتائج جاری کردیے

  اتوار‬‮ 15 جولائی‬‮ 2018  |  23:43

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف کالم نویس اعزاز سید اپنے کالم سزا اور عام انتخابات میں لکھتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہے سارا سیاسی منظر نامہ سیاستدان نہیں کچھ اہم قوتیں چلا رہی ہیں۔ کس کے خلاف کون سا کیس بنے گا، کسے کب گرفتار کیا جائیگا اور کس کے مستقبل کا کیا فیصلہ ہوگا؟ سب لکھے ہوئے اسکرپٹ کے تحت ہورہا ہے۔ یہ قوتیں اتنی طاقتور ہیں کہ کوئی نام تو کجا ان کی طرف اشارہ بھی نہیں کرسکتا۔مگر طاقت عقل خرید تو سکتی ہے مگر خود عقل بن نہیں سکتی۔ آج یہی مسئلہ درپیش ہے۔ یہ قوتیں سیاست

میں تو ملوث ہیں مگر یہ پاکستانی سیاست کی ایک بنیادی بات سمجھ نہیں سکیں۔ وہ یہ کہ یہاں سرکاری نظام سے برعکس جب کسی سیاستدان کو پھانسی، جلاوطنی یا جیل کی سزا دے کر اس کی توہین کرنے کی کوشش کی جائے تو جتنی سخت سزا ہو، عوام اس کو اتنی ہی زیادہ عزت دیتے ہیں۔ جب آپ کسی کو دبانے کے لیے دفن کرتے ہیں تووہ بیج بن کرابھر آتا ہے۔ انگریزی میں کسی نے شہرہ آفاق فقرہ لکھاتھا۔ They buried us.They did not know we are seeds. ترجمہ: انہوں نے ہمیں دفن کردیا۔ انہیں پتہ نہیں تھا کہ ہم بیج ہیں۔ اہم قوتوں کا دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ریٹائر ہو جاتی ہیں۔ ان کو اپنی سرکاری سہولتیں، ترقی، پوسٹنگ، چھٹی اور خاندان کی بڑی فکر ہوتی ہے لہذا وہ سیاسی میدان میں بھی اپنی ریٹائرمنٹ یا پوسٹنگ کی مدت جتنی ہی لمبی منصوبہ بندی کرپاتی ہیں۔ اس سے آگے کچھ نہیں۔ جنہوں نے آج تک کی منصوبہ بندی کی ہے وہ یہ بات نہیں سوچتے کہ جب وہ ابھی زیر تربیت تھے اس وقت نوازشریف ان کے سینئرز کے ساتھ جپھی لگا کراقتدار میں آنے اور دوسروں کو گرانے کے گر آزما رہے تھے۔ اس کے بعد بھی کتنے لوگ آئے اور گئے، مگر سیاستدان نے تجربہ ضرور حاصل کیا۔ آج نوازشریف ان کی سوچ سے آگاہ ہے اور اتنا تجربہ کار ہوگیا ہے کہ وہ ان قوتوں سے دور جاچکا۔شاید وہ سب سمجھ چکا ہے۔ سیاستدانوں کو ان پر یہ فوقیت حاصل ہوتی ہے کہ سرکاری افسران کی گاڑی عام طور پر ریٹائرمنٹ کے موقع پر بند ہوجاتی ہے مگر سیاستدان جتنا پرانا ہوتا جاتا ہے اتنا ہی تجربہ کاربھی۔ جیسے آگ میں گوندھا ہواسونا، کندن۔ موجودہ اسکرپٹ میں بنیادی خامیاں توپہلے دن سے ہی تھیں۔ مگر بنیادی جمع تفریق بھی غلط کی گئی۔ پہلے سوچا گیا کہ نوازشریف اقتدار سے نکلنے کے بعد خاموشی سے جاتی امرا چلے جائیں گے۔مگر زخمی نوازشریف نے خاموشی سے ہوائی جہاز یا موٹروے سے جانے کی بجائے عدالتی فیصلے کی اپنی کمزوری کو طاقت میں بدلا اور مجھے کیوں نکالا کا نعرہ لگا کر جی ٹی روڈ سے عوامی ریلے کے ہمراہ لاہور پہنچا۔ پھر اندازہ لگایا گیا کہ مسلم لیگ ن ٹوٹ جائے گی۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ صرف بیس کے قریب پارٹی ارکان چھوڑ کرگئے۔ مگر پارٹی ٹوٹی نہ پارٹی ٹکٹ کی مانگ میں کمی آئی۔ پھر اندازہ لگایا گیا کہ نوازشریف لندن جائیں گےاور واپس نہیں آئیں گے بلکہ جلاوطنی اختیار کرلیں گے۔ مگر جب ایسا بھی غلط ثابت ہونے لگا تو لندن میں ایک رابطہ کار کے ذریعے نوازشریف کو پیغام دیا گیاکہ وہ کچھ دن وہیں رک جائیں۔ انہیں ریلیف بھی ملے گا۔ مگر نوازشریف اور مریم نواز لندن سے پاکستان کے لیے نکل گئے۔یہ جمع تفریق بھی غلط ہوگئی اور باپ بیٹی کی ڈرامائی واپسی اور گرفتاری نے ان پرلگے عدالتی فیصلے کے داغ کو مزید دھندلا کردیا۔ گو کہ داغ ابھی بھی باقی ہے مگر ان کی عزت میں اضافہ بھی ہوااور لوگ تیزی سے فیصلے کو بھول رہے ہیں۔جو اسکرپٹ کے اس بنیادی فلسفے سے متصادم ہے کہ لوگ انتخابات کے قریب اس فیصلے کی وجہ سے ن لیگ کو سرے سے ووٹ ڈالیں گے نہ ان کے لیے سڑکوں پر آئیں گے۔ کیپٹن صفدر، نوازشریف اور مریم نواز کی گرفتاری کے موقع پر صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ باقی عوامی فیصلہ انتخابات کے روز ہوگا۔نوازشریف اور مریم نواز عدالتی مجرم ہیں تو بھٹو بھی عدالتی مجرم ہی تھے مگر وقت نے انہیں عوامی ہیروبنا دیا اور آج دنیا انہیں کچھ مختلف انداز میں یاد کرتی ہے۔گو کہ نوازشریف بھٹو نہیں ہیں مگر فی الحال دونوں میں بغاوت ایک مشترک خوبی ہے۔اس وقت ایک اور پہلو بڑا اہم ہے اور وہ یہ کہ نوازشریف کو صرف عدالت کا ہی نہیں بلکہ اپنی عمر اور بیماریوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ اڑسٹھ سالہ نوازشریف کو دل اور شوگر کے مرض کے ساتھ ساتھ اپنی بیگم کی بیماری اور اقتدار سے توہین آمیز طریقے سے نکالے جانے کا دکھ بھی ہے۔ خدانخواستہ جیل میں ان کی صحت کو کوئی مسئلہ لاحق ہوگیا تو یہ مسئلہ ان کے لیے کم اہم قوتوں کے لیے زیادہ جان لیوا ہوسکتا ہے۔لوگ سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور زیادتی کرنے والے دونوں کو نہیں بھولتے۔ ایسے ہی جیسے لوگ آج جنرل ضیاکو بھی نہیں بھولے۔ نوازشریف کو جیل میں ڈالنے کی سردردی اپنی جگہ اگلاسردرد عام انتخابات ہیں۔ مجھے کہیں اندر سے ایک انتخابی سرکاری جائزے کی نقل ملی ہے۔ قومی اسمبلی کی دوسوبہتر نشستوں کے انتخاب میں سادہ اکثریت لینے کے لیے ایک سو چھتیس نشستوں پر جیت لازمی ہے مگر کچھ قوتوں کی تمام تر کوششوں کے بعد لگائے گئے ان کے اپنے جائزے کے مطابق ان کی پسندیدہ جماعت پاکستان تحریک انصاف کو اب بھی ایک سو سولہ نشستیں ملیں گی،مسلم لیگ ن تمام تر کریک ڈاؤن کے باوجود ستاون نشستیں جیت پائے گی۔ پیپلزپارٹی ستائیس نشستیں لیکر تیسرے نمبر پر جبکہ جیپ اور مٹکے کے آزاد امیدوارتمام تر مدد کے باوجود صرف بیس نشستیں لے پائیں گے۔ سندھ میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کو بارہ اور کراچی میں اپنی ہی تیار کردہ پاک سرزمین کو اس جائزے میں نو نشستیں ملیں گی جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کواس جائزے میں چار نشستیں دی گئی ہیں۔ اسکرپٹ لکھنے والوں کی خواہش پر کرائے گئے اس جائزے میں متحدہ مجلس عمل کو آٹھ اور بلوچستان میں اپنی ہی تیار کردہبلوچستان عوامی پارٹی جسے باپ بھی کہا جاتا ہے کو چھ نشستیں ملیں گی۔ مسلم لیگ قائداعظم، عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی سب کو دو دو نشستیں ملیں گی۔ باقی چھوٹی موٹی جماعتوں کو ایک ایک نشست دیکر نمبرز پورے ہوتے ہیں۔ اتنی محنت کے باوجود نتائج مرضی کے حاصل نہیں ہورہے۔ جو حکومت بھی آئے گی اس نے آج نہیں تو کل تنگ آکر اہم وقتوں کو یاد دلانا ہے کہ منتخب حکومتوں کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔ اسکرپٹ لکھنے والوں کا اسکرپٹ کاغذ کی حد تک تو اچھا ہے مگر عملی طور پر جمع تفریق کی بنیادی غلطیاں اس میں پائی جاتی ہیں جوشاید ان قوتوں کو تو کوئی نقصان نہ پہنچائیں مگر ملک کو نقصان ضرور پہنچائیں گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں