منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پی ایم ہاؤس کی سکیورٹی پرماموراہلکا ر خیراتی کھانا کھانے پر مجبور ،عباسی خاندان کے چشم و چراغ نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عزت سادات مٹی میں ملا دی

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) پی ایم ہاؤس کی سکیورٹی پر معمور فورس خیراتی کھانا کھانے پر مجبور ، اپنے شوق سے ایف سیون ٹو واقع ذاتی رہائش گاہ کو وزیراعظم ہاؤس کا درجہ دلانے والے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی طرف سے گلی میں لگنے والی دو اضافی پکٹوں پر معمور د درجن سے زائد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک برتے جانے کے عمل کا انکشاف ہوا ہے ۔

وزیراعظم کے پڑوس اور معروف فارما سیوٹیکل کمپنی ولسن کے مالک کی طرف سے ملنے والے خیراتی کھانوں پر اکتفا کرنے پر مجبور ہیں وزیراعظم ہاؤس کے مکین جن کی سکیورٹی کیلئے اضافی نفرت تعینات کی گئی ہے کی طرف سے تاحال سادہ پانی کا گلاس تک سکیورٹی اہلکاروں کو نہیں پوچھا گیا۔ آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے ایف سیون ٹو میں وزیراعظم ہاؤس کی سکیورٹی کیلئے موجود قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار نے بتایا کہ نااہل وزیراعظم سرکاری رہائش گاہ استعمال کرتے تھے تو ان کی سکیورٹی کیلئے موجود عملے کیلئے تین وقت کے کھانے کا خصوصی اہتمام موجود ہوتا تھا عباسی خاندان کے چشم و چراغ نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عزت سادات مٹی میں ملا دی دو ماہ ہونے کو آئے آج تک وزیراعظم یا ان کے کسی ذمہ دار کی طرف سے اپنی سکیورٹی کیلئے فراہم کی گئی دو درجن سے زائد سکیورٹی ٹیم کو ایک وقت کے کھانے کا بھی نہیں پوچھا وزیراعظم ہاؤس کے متصل رہائش پذیر معروف فارما سیوٹیکل کمپنی ولسن کے مالک کی طرف سے آتے جاتے کھڑے گارڈ پر ترس کھاتے ہوئے تین ٹائم کی پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے خیراتی کھانے کی فراہمی کی جارہی ہے آشکبار آنکھوں سے نظریں چراتے ہوئے سکیورٹی اہلکار

نے آن لائن کو بتایا کہ ان کا تعلق خود سادات خاندان سے ہے جس پر صدقہ خیرات کھانا جائز نہیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہٹ دھرمی کے سبب وہ مجبوری خیراتی کھانا کھانے پر مجبور ہیں کیونکہ وزیراعظم ہاؤس کے سکیورٹی جیسی اہم ذمہ داری وہ کھانے کے وقفے کے نام کسی دوسرے کے کندھوں پر نہیں ڈال سکتے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…