جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پی ایم ہاؤس کی سکیورٹی پرماموراہلکا ر خیراتی کھانا کھانے پر مجبور ،عباسی خاندان کے چشم و چراغ نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عزت سادات مٹی میں ملا دی

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن) پی ایم ہاؤس کی سکیورٹی پر معمور فورس خیراتی کھانا کھانے پر مجبور ، اپنے شوق سے ایف سیون ٹو واقع ذاتی رہائش گاہ کو وزیراعظم ہاؤس کا درجہ دلانے والے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی طرف سے گلی میں لگنے والی دو اضافی پکٹوں پر معمور د درجن سے زائد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک برتے جانے کے عمل کا انکشاف ہوا ہے ۔

وزیراعظم کے پڑوس اور معروف فارما سیوٹیکل کمپنی ولسن کے مالک کی طرف سے ملنے والے خیراتی کھانوں پر اکتفا کرنے پر مجبور ہیں وزیراعظم ہاؤس کے مکین جن کی سکیورٹی کیلئے اضافی نفرت تعینات کی گئی ہے کی طرف سے تاحال سادہ پانی کا گلاس تک سکیورٹی اہلکاروں کو نہیں پوچھا گیا۔ آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے ایف سیون ٹو میں وزیراعظم ہاؤس کی سکیورٹی کیلئے موجود قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار نے بتایا کہ نااہل وزیراعظم سرکاری رہائش گاہ استعمال کرتے تھے تو ان کی سکیورٹی کیلئے موجود عملے کیلئے تین وقت کے کھانے کا خصوصی اہتمام موجود ہوتا تھا عباسی خاندان کے چشم و چراغ نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عزت سادات مٹی میں ملا دی دو ماہ ہونے کو آئے آج تک وزیراعظم یا ان کے کسی ذمہ دار کی طرف سے اپنی سکیورٹی کیلئے فراہم کی گئی دو درجن سے زائد سکیورٹی ٹیم کو ایک وقت کے کھانے کا بھی نہیں پوچھا وزیراعظم ہاؤس کے متصل رہائش پذیر معروف فارما سیوٹیکل کمپنی ولسن کے مالک کی طرف سے آتے جاتے کھڑے گارڈ پر ترس کھاتے ہوئے تین ٹائم کی پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے خیراتی کھانے کی فراہمی کی جارہی ہے آشکبار آنکھوں سے نظریں چراتے ہوئے سکیورٹی اہلکار

نے آن لائن کو بتایا کہ ان کا تعلق خود سادات خاندان سے ہے جس پر صدقہ خیرات کھانا جائز نہیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہٹ دھرمی کے سبب وہ مجبوری خیراتی کھانا کھانے پر مجبور ہیں کیونکہ وزیراعظم ہاؤس کے سکیورٹی جیسی اہم ذمہ داری وہ کھانے کے وقفے کے نام کسی دوسرے کے کندھوں پر نہیں ڈال سکتے ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…