دنیا کی سب سے بڑی حقیقت

  اتوار‬‮ 30 اگست‬‮ 2015  |  0:01

دربار برآمدے سے شروع ہوتا تھا‘ یہ ایک وسیع برآمدہ ہے‘ چھت اونچی‘ دیواروں پر پچی کاری‘ جس طرف دیکھیں کوئی نہ کوئی آیت تحریر ہے‘ چھت لکڑی کی تھی اور کشتی کی طرح تھی‘ گائیڈ نے بتایا‘ بادشاہ جب دربار میں داخل ہوتا تھا تو وہ چھت کی طرف دیکھتا تھا اور پھر ہم کلام ہو کر کہتا تھا ” یاد رکھو تم لوگ کشتیوں کے محتاج تھے‘ کشتیاں اگر تمہیں نہ سنبھالتیں تو تم اس اجنبی دیس تک نہ پہنچ پاتے“ برآمدے کے بعد دربار کا ہال آتا ہے‘ دربار پرشکوہ تھا‘ دیواریں اونچی‘ چاروں اطراف جھروکے اور روشن دان‘ چھت کی سات تہیں ہیں‘ یہ سات تہیں سات آسمانوں کو ظاہر کرتی ہیں‘ چھت کے عین درمیان لکڑی کا چکور پیس لگا ہے‘ یہ اللہ


تعالیٰ کی علامت تھا‘ چکور ٹکڑے کے چار کونے اللہ کے تخت کے چار پائیوں کو ظاہر کرتے تھے‘ بادشاہ کا تخت اللہ کے تخت کی اس علامت کے بالکل نیچے ہوتا تھا اور وہ ہر فیصلہ کرنے سے قبل اوپر اللہ کی علامت کو دیکھتا تھا‘ تخت کے سامنے دربار کا صحن تھا‘ تخت سے پانی کا تالاب‘ سروکی باڑ اور کیبنٹ ہال کا دروازہ دکھائی دیتا تھا‘ یہ ہال اور اس کا صحن الحمراءکی دوسری خوبصورت عمارت ہے‘ پہلی خوبصورت عمارت بادشاہ کا حرم ہے‘ یہ عمارت ”کورٹ آف لائنز“ کہلاتی ہے‘ اس کی وجہ تسمیہ صحن کے درمیان بارہ شیروں کا فوارہ ہے‘ عمارت کے عین درمیان سفید سنگ مر مر کا فوارہ ہے‘ فوارے کے تھال کو بارہ شیروں نے اٹھا رکھا ہے‘ تمام شیر ایک دوسرے سے مختلف ہیں‘ یہ شیر 12 برجوں کو ظاہر کرتے ہیں‘ یہ کہانی بھی مشہور ہے‘ یہ فوارہ بادشاہ کو کسی یہودی نے گفٹ کیا تھا اور یہ بارہ شیر بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کی علامت ہیں‘ صحن کے چاروں اطراف چار بڑے چیمبر ہیں‘ چاروں چیمبرز کے اندر فوارے ہیں‘ ان فواروں کا پانی چھوٹی چھوٹی نالیوں کے ذریعے صحن میں شیروں کے فوارے تک پہنچتا ہے‘ شیر یہ پانی اٹھا کر اپنے اپنے منہ سے خارج کرتے ہیں‘ یہ عمل ثابت کرتا تھا‘ بارہ برج یا بارہ مہینے اپنی توانائی بادشاہ سے حاصل کرتے ہیں‘ یہ خیال یوں بھی قرین حقیقت ہے کہ اس عمارت کا پہلا کمرہ بادشاہ کا بیڈروم تھا اور بادشاہ کے بیڈ روم کا فوارہ سب سے پہلے شیروں کو پانی پہنچاتا تھا‘ بادشاہ کا بیڈ روم تعمیراتی حسن کا شاہکار ہے‘ بیڈروم کے عین درمیان فوارہ ہے‘ فوارے کی دونوں سائیڈوں پر تیس تیس فٹ کے فاصلے پر دو چوکیاں ہیں‘ بادشاہ کا بستر ان چوکیوں پر لگتا تھا‘ بادشاہ دائیں چوکی پر سوئے گا یا بائیں چوکی پر بادشاہ یہ فیصلہ بیڈ روم میں داخل ہونے کے بعد خود کرتا تھا‘ چھت کمال کا بھی نقطہ کمال ہے‘ سو فٹ اونچی چھت پر چونے کے پتھر سے وہ جوف‘ دائرے اور کمانیں بنائی گئیں جو آواز کی قوت بڑھا دیتی ہیں اور یوں بیڈ روم میں قدرتی ساﺅنڈ سسٹم بن جاتا ہے‘ کمرے میں فوارے کا جلترنگ بج رہا تھا‘ میں نے فوارے کے ساتھ کھڑے ہو کر سرگوشی کی‘ سرگوشی کی آواز پانی کی ٹپ ٹپ کے ساتھ ملی‘ یہ دونوں آوازیں چھت سے ٹکرائیں‘ وہاں سے دیواروں اور فرش پر اتریں‘ ملٹی پلائی ہوئیں اور گیت بن گئیں‘ یہ تھا الحمراءکا جادو‘ وہاں بھدی آوازیں بھی نغمہ بن جاتی ہیں۔ کورٹ آف لائنز میں بادشاہ کے بیڈ روم کے عین سامنے ملکہ کا بیڈ روم تھا‘ یہ بیڈروم بھی انسانی صناعی کا نقطہ کمال ہے‘ ملکہ کی خواب گاہ کی کھڑکیاں باغ میں کھلتی ہیں‘ ساتھ خادماﺅں کے کمرے‘ کچن اور سٹیم باتھ تھے‘ ہر جگہ فوارے اور آبشاریں تھیں‘صحن کے دونوں اطراف کنیزوں کے بیڈروم تھے‘ عمارت میں 126 ستون ہیں‘ ہر ستون دوسرے ستون سے مختلف ہے اور ہر ستون پر آیات درج ہیں‘ آپ جس ستون کو بھی دیکھتے ہیں‘ آپ اس کی خوبصورتی‘ اس کی صناعی میں جذب ہو جاتے ہیں‘ کورٹ آف لائنز کے ستون مسجد قرطبہ کے ستونوں سے ملتے جلتے ہیں لیکن یہ اس سے زیادہ خوبصورت ہیں‘ یہ محل عربوں کی جمالیاتی حس کا قبلہ تھا‘ میں نے زندگی میں ڈیڑھ سو محل دیکھے ہیں لیکن ان میں الحمراءجیسا کوئی دوسرا محل نہیں اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ اس کےلئے غرناطہ کے بادشاہوں جیسی نظریں اور مورش فنکاروں جیسی انگلیاں چاہئیں اور یہ دونوں اب دنیا میں موجود نہیں ہیں‘ میں فن کے اس قبلے کی زیارت کےلئے تیسری بار غرناطہ آیا‘ ہر بار اللہ تعالیٰ سے دعا کی‘ یا باری تعالیٰ میں اس جگہ کی خاموشی کو سننا چاہتا ہوں‘ مجھے کوئی ایسا موقع عطا فرما دے جب میں شیروں کے مجسمے کے پاس اکیلا بیٹھا ہوں اور اس پورے ایوان میں پانی کی ٹپ ٹپ اور ہوا کی سرسراہٹ کے سوا کوئی نہ ہو‘ میں یہاں اکیلا بیٹھ کر ابو عبداللہ محمد کی اس آخری رات کو محسوس کرنا چاہتا ہوں جو اس نے سقوط غرناطہ سے ایک دن پہلے اس فوارے کے ساتھ بیٹھ کر گزاری تھی‘ محل سے سسکیوں کی ہلکی ہلکی آوازیں آ رہی تھیں‘ فوارے کے شیروں کے منہ سے پانی کی بجائے آنسو ٹپک رہے تھے‘ ہوائیں اداس تھیں‘ آسمان پر چاند تھا لیکن اس دن مغموم تھا‘ ابو عبداللہ محمد کی ماں نے اپنے کمرے کی کھڑکی کھولی اور سورة بقرہ کی تلاوت شروع کر دی‘ وہ جب انا للہ وہ انا علیہ راجعون کی آیت پر پہنچی تو اس کی آواز چیخ بن گئی‘ ابوعبداللہ محمد نے حسرت سے آخری بار پورے محل کو دیکھا‘ محل کے چپے چپے پر ولا غالب الااللہ(اللہ کے سوا کوئی غالب نہیں) لکھا تھا‘ یہ فقرہ محل بنانے والوں کے درد دل اور خوف خدا کی نشانی تھی‘ محل بنانے والوں نے جب محل دیکھا تو اس کے حسن سے مبہوت رہ گئے اور ان کے دل میں تکبر آ گیا لیکن جلد ہی غلطی کا احساس ہو گیا‘ جھرجھری لی اور حکم جاری کر دیا‘ محل کے چپے چپے پرولا غالب الااللہ لکھ دیا جائے تا کہ میرے سمیت میری نسل کا جو بھی شخص یہ محل دیکھے وہ اس کا حسن پڑھنے سے پہلے یہ فقرہ پڑھے‘ بادشاہ کا حکم تھا‘ فوراً تعمیل ہو گئی‘محل کے چپے چپے پر ولا غالب الااللہ لکھ دیا گیا‘ ابوعبداللہ محمد نے آخری بار محل کو دیکھا‘ اٹھا اورولا غالب الااللہ پڑھتے پڑھتے اپنے بیڈ روم میں چلا گیا‘ یہ اندلس کے مسلمان بادشاہوں کی اس محل میں آخری رات تھی‘ میں شیروں کے اس مجسمے کے ساتھ بیٹھ کر اس آخری رات اور اس آخری رات کی اس آخری صبح کو محسوس کرنا چاہتا ہوں جب غرناطہ کا شاہی خاندان اپنا سامان سمیٹ کر ”کورٹ آف لائنز“ سے رخصت ہوا‘ اللہ تعالیٰ نے تین کوششوں میں یہ موقع عنایت نہیں کیا لیکن مجھے یقین ہے‘ میری یہ کوشش کبھی نہ کبھی ضرور کامیاب ہو گی۔ میں نے ”کورٹ آف لائنز“ میں پہلی بار زندگی کی سب سے بڑی حقیقت کو یقین میں بدلتے ہوئے بھی محسوس کیا‘ وہ حقیقت کیا ہے؟ آپ اس سے قبل قرطبہ اور غرناطہ اور مسجد قرطبہ اور الحمراءاور سقوط غرناطہ کے بعد سپین کے مسلمانوں کی تاریخ پڑھیں‘ عیسائیوں نے سقوط کے بعد وعدہ خلافی کی‘ تیس لاکھ مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا‘ جلا دیا گیا‘ جلاوطن کر دیا گیا یا پھر زبردستی عیسائی بنا دیا گیا‘ مسلمان بچیوں کی باقاعدہ منڈیاں لگائی گئیں‘ انہیں قحبہ خانوں میں بٹھایا گیا اور ان بازاروں کے نام قرطبہ اور الحمراءرکھے گئے‘ مسلمانوں کے مکان جلا دیئے گئے‘ مسجدیں چرچ بنا دی گئیں‘ مسجد قرطبہ کادو تہائی حصہ توڑ کر وہاں چرچ بنایا گیا‘ الحمراءکو بھی تباہ کر دیا گیا‘ الحمراءکی شاہی مسجد گرا کر وہاں چارلس پنجم نے اپنا محل بنا لیا‘ پورے محل پر سفید چونا پھیر دیا گیا‘ یہ محل طویل عرصے تک خانہ بدوشوں کا مسکن بھی رہا اور یہ اس کی اینٹیں تک نکال کر بیچ گئے‘ سپین کی مورش تہذیب پانچ سو سال تک مذہبی‘تہذیبی اور نسلی نفرت کا نشانہ رہی لیکن پھر اچانک نفرت محبت میں بدل گئی اور وہ لوگ جو مسجدیں‘ محل اور گھر جلا اور گرا رہے تھے وہ مسلمانوں کے ان اثاثوں کے محافظ بن گئے‘ یہ لوگ اب قرطبہ سے لے کر الحمراءتک اور تولیدو سے لے کر غرناطہ کی گلیوں تک مسلمانوں کے ایک ایک نقش کی حفاظت کر رہے ہیں‘ آج مسجد قرطبہ کا ایک پتھر گرتا ہے تو سپین کی حکومت دنیا بھر کے ماہرین جمع کر لیتی ہے‘ غرناطہ میں چار ایسی فیکٹریاں ہیں جو الحمراءکی دیواروں پر لکھی آیات کی ٹائلیں بناتی ہیں‘ یہ ٹائلیں الحمراءمیں بھی لگائی جاتی ہیں اور بازار میں بھی فروخت ہوتی ہیں اور یہ لوگ مسجد قرطبہ اور الحمراءمیں آیات لکھوانے کےلئے اسلامی دنیا سے وہ خطاط بھی منگواتے ہیں جن کے آباﺅ اجداد کو انہوں نے گلیوں میں پھانسیاں دی تھیں‘ ایسا کیوں؟ اس ”ایسا کیوں“ کو معیشت کہتے ہیں‘ دنیا سے ہر سال ایک کروڑ لوگ مسجد قرطبہ اور الحمراءدیکھنے آتے ہیں‘ یہ لوگ سپین کی معیشت چلاتے ہیں چنانچہ وہ عیسائی جو پانچ سو سال مسجدیں گراتے اور آیتیں کھرچتے رہے‘ وہ اب ان مسجدوں‘ ان آیتوں کے محافظ ہیں‘ بت کعبے کی حفاظت کر رہے ہیں‘ میں نے شیروں کے فوارے کے پاس بیٹھ کر محسوس کیا معیشت دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے‘ مذہب اور تعصب سے بھی بڑی حقیقت۔ کاش! ہم مسلمان بھی یہ حقیقت جان لیں۔