کورونا سے ہلاکتوں میں بھارت دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر آ گیا  گزشتہ 15روز سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ

  بدھ‬‮ 19 اگست‬‮ 2020  |  16:38

نئی دہلی (این این آئی)بھارت میں ایک دن میں کورونا کے 64 ہزار سے زائد کیسز سامنے آگئے جب کہ وہاں دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر روزانہ سب سے زیادہ ہلاکتیں سامنے آرہی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں گزشتہ 15روز سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہورہے ہیں

اور گزشتہ روز ایک دن میں ریکارڈ 64500 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ 1092 ہلاکتیں بھی ہوئیں جس سے بھارت میں کورونا کیسز کی کل تعداد 27 لاکھ 67 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور ہلاکتیں 52 ہزار 800 سے زیادہ ہیں۔اس کے علاوہ بھارت میں اب تک کورونا وائرس سے 20 لاکھ 37 ہزار سے زائد افراد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں جو کل کیسز کا 73 فیصد ہے۔بھارتی میڈیا کا بتانا تھاکہ گزشتہ روز بھارت میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ 876 ہلاکتیں ہوئیں جب کہ دوسرے نمبر پر امریکا میں 654 اور برازیل میں 620 ہلاکتیں ہوئیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق ملک میں 30 جنوری کو کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد 200 روز میں 26 لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے ، 19 مئی تک ایک لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے جو جولائی میں 6 لاکھ تک جا پہنچے جب کہ 31 جولائی تک کیسز کی تعداد 16 لاکھ تک جا پہنچی۔بھارتی میڈیا کا بتانا ہے بھارت میں روزانہ دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر کورونا سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہورہی ہیں اور اوسطا بھارت میں 15 اگست سے روزانہ 948 ہلاکتیں ہورہی ہیں جب کہ اس دوران برازیل میں روزانہ 1008 اور امریکا میں 965 ہلاکتیں ہوئیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق ملک میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں میں سے 39 فیصد مہارشٹرا، 11 فیصد تامل ناڈو اور 5.5 فیصد گجرات میں ہوئی ہیں۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎