اسلامی تاریخ میں حج کب اور کتنی بار منسوخ کیا گیا؟ مناسک حج ادا نہ کرنے کی وجوہات بھی سامنے آ گئیں

  جمعرات‬‮ 2 اپریل‬‮ 2020  |  20:13

ریاض(نیوز ڈیسک)کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس سے اہم اسلامی ملک سعودی عرب بھی متاثر ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے ہی سعودی عرب نے عمرہ ادا کرنے پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے، اب سعودی عرب کے شہروں مکہ اور مدینہ منورہ میں چوبیس گھنٹے کے کرفیوکا اعلان کر دیا گیا ہے اور یہ غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔حج کے متعلق بھی سعودی عرب کے حج و عمرہ کے وزیر کا کہنا ہے کہ ابھی حج کے خواہشمند اپنی تیاریاں روک دیں اور ٹکٹس کی بکنگ بھی نہ کروائیں۔


حج کے حوالے سے ابھی تک غیر یقینی سی کیفیت ہے اور کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ حج ہو سکے گا یا نہیں۔ ایسے میں خلیج کے معروف جریدے مڈل ایسٹ آئی نے حج کے تاریخی حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر خدانخواستہ 2020ء میں حج بیت اللہ نہ ہوا تو یہ اسلامی تاریخ کا پہلا واقعہ نہیں ہوگا بلکہ ماضی میں ایسا درجنوں بار ہو چکا ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی عرب کی ریاست 1932ء میں معرض وجود میں آئی، اس دوران اب تک حج کی ادائیگی میں خلل واقع نہیں ہوا۔ سعودی عرب کے وجود میں آنے سے چند سال قبل 1917-18ء میں دنیا میں سپینش فلو کی وبا پھیلی تھی جس کی وجہ سے پانچ کروڑ افراد ہلاک ہو گئے تھے، اس وقت بھی حج کی ادائیگی کی گئی۔اگر رواں سال 2020ء میں خدانخواستہ حج کی ادائیگی نہیں ہوتی تو یہ اسلامی تاریخ میں اس نوعیت کا 40 واں واقعہ ہو گا۔ مڈل ایسٹ آئی کی اس رپورٹ کے مطابق 865ء میں عباسی خلافت کے مخالف اسماعیل بن یوسف السفاک نے مکہ مکرمہ کے تقدس کو نظر انداز کرتے ہوئے عرفات کی پہاڑیوں پر موجود حاجیوں پر حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں کئی حاجی شہید ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے حج ملتوی کرنا پڑا تھا۔930ء میں بحرین پر قابض قرامطی (اسماعیلی) فرقے کے سردار ابو طاہر الجنبی نے مکّہ مکرمہ پر بڑے لشکر کے ساتھ حملہ کیا،اس فوجی حملے میں 30 ہزار معصوم حاجیوں کو شہید کیا گیا اور سینکڑوں حاجیوں کی نعشوں کو زمزم کے پاک کنوئیں میں پھینک کر اس کے تقدس کو پامال کیا گیا۔اس موقع پر ان لوگوں نے مسجد الحرام میں بھی لُوٹ مار کی اور واپس جاتے ہوئے خانہ کعبہ سے حجر اسود بھی اپنے ساتھ بحرین لے گئے۔ اس واقعے کے کئی سال بعد تک حج کی ادائیگی نہ ہو سکی، لیکن جب بحرین سے حجر اسود واپس لا کر خانہ کعبہ میں نصب کیا گیا تو اس کے بعد اگلے سالوں میں دوبارہ حج کے مناسک کی ادائیگی کا آغاز ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق 983ء اور اس کے بعد کے کئی سال بھی ایسے تھے جب حج نہ ہو سکا، اس کی وجہ ایران و عراق اور دیگر اسلامی علاقوں پر قائم عباسی خلافت اور شام کی فاطمی خلافت کی آپسی جنگیں تھیں، ان جنگوں کے دوران حاجیوں کو مکہ مکرمہ جانے سے روک لیا جاتا تھا۔مسلمانوں کی ان آپسی جنگوں کی وجہ سے 983ء سے 990ء تک مسلسل آٹھ سالوں میں حج کی ادائیگی نہ ہو سکی۔ 991ء میں حج کے مناسک ادا کئے گئے۔ اس کے بعد 1831ء میں برصغیر پاک و ہند میں طاعون کی وبا پھیلی،جب اس خطے کے افراد حج کی ادائیگی کے لئے مکہ پہنچے تو ان متاثرہ افراد سے دیگر ہزاروں افراد میں بھی یہ وباء پھیل گئی۔تاریخی حوالوں کے مطابق طاعون کے باعث حج کے آغاز میں ہی مکہ میں موجود تین چوتھائی حاجی جاں بحق ہو گئے۔ ان سنگین حالات کی وجہ سے مناسک حج منسوخ کر دیے گئے۔چھ سال بعد دوبارہ وباؤں نے سعودی عرب کا رخ کیا، مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق 1837ء سے 1858ء کے دو عشروں کے درمیان وقتاً فوقتاً وبائیں جنم لیتی رہیں، اس وجہ سے اس دوران سات بار حج کے مناسک ادا نہ ہو سکے۔ پہلے 1837ء میں مکہ میں طاعون کی وبا پھُوٹی جس کے باعث 1840ء تک حج ادا نہ ہو سکا۔ 1846ء میں مکہ کے رہائشیوں کو ہیضہ کی وبا نے آن گھیر ا،اس وباء سے پندرہ ہزار افراد جاں بحق ہو گئے، جس کی وجہ سے 1849ء تک حج کی ادائیگی روک دی گئی۔اس کے بعد 1850ء میں حج کے مناسک ادا کئے گئے۔1858ء میں بھی ہیضہ کی وباء سے کئی ہلاکتیں ہوئیں اس وجہ سے حج مکمل نہ ہو سکا۔رپورٹ کے مطابق 1865ء اور 1883ء میں بھی وباء کی وجہ سے لوگ حج ادا نہ کر سکے۔


موضوعات: