بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

خاتون اینکر اپنے بھائی کی موت کی خبر سننے کےبعد بھی نم آنکھوں کیساتھ خبریں پڑ کر سناتی رہیں، عراقی اینکر نے صبر و تحمل کی نئی مثال قائم کر دی

datetime 14  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عراقی ٹی وی چینل کی خاتون میزبان اپنا پروگرام شروع کرتے ہوئے شدید غمگین ہو گئیں ۔ تفصیلات کے مطابق عراقی پروگرام اینکر سحرعباس اسکرین پر آن ائیر ہوئیں تو وہ شدید غم اور رنج کی کیفت میں مبتلا تھیں انہوں نے اپنے غم کی وجہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ پروگرام شروع کرنے سے

کچھ لمحے قبل انہیں اپنے بڑے بھائی میجر جنرل طارق عباس کی موت کی خبر ملی جس کی وجہ سے وہ اس کیفیت کا شکار ہیں ۔ جس پر انہوں نے ناظرین سے معافی مانگی کہ وہ آن ائیر ہونے کے بعد بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکیں ۔ سحر عباس نے بھائی کی موت کی خبر ملنے کے باوجود پروگرام پیش کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تاکہ ملک میں پیش آنے والے کسی بھی قسم کے تازہ واقعات سے اپنے دیکھنے والے ناظرین کو باخبر رکھا جائے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بھارت کی خاتون نیوز اینکر بھی حادثے کی خبر ناظرین کیساتھ شیئر کرتے ہوئےغمزدہ ہو گئیں کہ جس حادثے کے بارے میں وہ بات کر رہی ہیں اس میں ہلاک ہونے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کا شوہر ہے جو کسی کام سے دوسرے شہر گیا تھا ۔ جب گاڑی اور دیگر تفصیلات سامنے آئیں تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے لیکن انہوں نے بڑے صبر و تحمل کیساتھ خبر مکمل کی اور خود پر کیمرہ ہٹتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں تھی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…