اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

امریکا نے حماس، طالبان، پاسداران انقلاب، داعش اور القاعدہ پرنئی پابندیاں عائد کردیں

datetime 11  ستمبر‬‮  2019 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکا نے مختلف دہشت گرد تنظیموں اور ان کے مددگاروں پر نئی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے جن میں فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’ ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے منسلک افراد شامل ہیں۔یہ پابندیاں نائن الیون کی 18 ویں برسی کے موقع پر لگائی گئی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کے محکمہ خزانہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ان پابندیوں کا ہدف حماس

القاعدہ، داعش اور ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب سے منسلک 15 افراد اور عناصر شامل ہیں۔یہ پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حالیہ ایکزیکٹو آرڈر کے تحت لگائی گئی ہیں۔تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔محسود کی قیادت میں تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان بھر میں متعدد ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی طالبان کا سربراہ امریکہ اور افغانستان کی فورسز کے خلاف لڑنے پر یقین رکھتا ہے۔گزشتہ کئی برسوں کے دوران تحریک طالبان پاکستان نے ملک بھر میں اپنے دہشت گرد حملوں میں ہزاروں افراد کو ہلاک اور زخمی کیا۔وزیر خزانہ سٹیو منوچن نے اپنے بیان میں کہا کہ نائن الیون کے حملوں کے بعد سے امریکی حکومت نے اپنی انسداد دہشت گردی سے متعلق کوششوں کو مستقلاً ابھرتے ہوئے خطرات پر مرکوز کر دیا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے انسداد دہشت گردی کے ایکزیکٹو آرڈر میں ہمارے اختیارات کو تقویت فراہم کی جس سے ہم دہشت گرد گروپس کے مالیات اور ان کے لیڈروں کو ہدف بنا سکتے ہیں۔جن افراد پر پابندیاں لگی ہیں ان میں ترکی میں مقیم حماس کے مالی امور کے سربراہ ظاہر جبرین اور قدس فورس کے چیف سعید آزادی شامل ہیں۔ان کے علاوہ برازیل میں مقیم القاعدہ کا رکن اور ملاوی کا باشندہ بھی شامل ہے جو داعش کی افغانستان میں شاخ کے لیے بھرتیاں کرتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فلپائن میں مقیم داعش سے منسلک ایک کارندہ بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔افراد کے ساتھ ساتھ کئی ایکس چینج ہاؤسز اور جنوبی ترکی میں ایک جیولری کمپنی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم نامے کی زد میں آنے والوں کی امریکا میں موجود جائیدادیں ضبط کی جا سکتی ہیں اور امریکیوں کو عمومی طور پر ان کے ساتھ کاروبار کرنے کی ممانعت ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…