ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب کا وہ گائوں جو سرسبزوشاداب ہونے کے باوجود علاقہ خالی ہوگیا،جانتے ہیں لوگ یہاں سے نقل مکانی کرنے پر کیوں مجبور ہوئے

datetime 1  دسمبر‬‮  2019 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے پرانے گائوں کے مکان مکینوں سے خالی ہونے لگے،سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع جبل عال کی چوٹی پر ایک پرانے گائوں میں بنے مکانات آج بھی وہاں کے طرز بودو باش کی یاد تازہ کرتے ہیں۔اصفہ نامی یہ گائوں ٹھنڈے میٹھے اور تازہ پانی، سبزیوں، پھلوں

چٹانوں او پہاڑوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ اصفہ کسی دور میں ایک آباد گائوں تھا مگر اب وہاں صرف بوسیدہ اور کچے مکانات رہ گئے ۔اصفہ کے بارے میں ایک مقامی شہری حسن مسفر المالکی نے عرب ٹی وی کو بتایاکہ یہ گائوں بنی مالک الحجاز کی بستیوں میں سے ایک ہے۔ یہ علاقہ میسان گورنری کے تحت آتا ہے جو طائف سے جنوب میں 170 کلو میٹر دور ہے۔ اس گائوں کی تاریخ 500 سال پرانی ہے۔ اس کے جنوب مغرب میں جبل بثرہ واقع ہے جو کوہ السروات کی دوسری بلند ترین چوٹی تصور کی جاتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں المالکی نے بتایا کہ اصفہ کے پہاڑوں سے سال بھر تازہ پانی جاری رہتا ہے۔ یہاں پر کئی اقسام کے پھل اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ ان میں انگور، کشمش، اناردیگر پھل شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اصفہ کے باشندوں کی تعداد 2000 تھی جوسب کے سب قریبی شہروں میں چلے گئے ہیں اور ان کے پرانے اور بوسیدہ مکانوں کے صرف کھنڈات بچے ہیں۔ اگرچہ یہاں پراب آبادی نہیں رہی مگریہ جگہ سیاحوں اور فطرت کے دلدادہ لوگوں کیلیے غیرمعمولی کشش رکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…