جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پاکستان میں ہر چوتھا فرد ٹائپ 1ذیابیطس کا شکار ہے

datetime 2  جون‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) چھٹی سالانہ ذیابیطس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی مقررین نے ذیابیطس کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا ہے جو کہ انسانی صحت کے ساتھ ساتھ اس کے معمولاتِ زندگی اور معاشی حالات کو بھی متاثر کر تا ہے۔ ممتاز دوا ساز ادارے صنوفی پاکستان اور

ذیابیطس ایسو سی ایشن آف پاکستان (DAP) کی جانب سے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں منعقدہ کانفرنس کے مقررین میں برطانیہ سے آنے والے پروفیسر جیری رے مین، پروفیسررھس ولیمز اور پروفیسر عبد الصمد شیرا شامل تھے۔ مقررین نے اپنے خطاب میں بتایا کہ پاکستان میں بیس سال یا اس سے بڑی عمرکا ہر چوتھا فرد ٹائپ 1ذیابیطس کا شکار ہے۔ ذیابیطس کے باعث پیروں کو لاحق ہونے والی بیماری کے بارے میں بتاتے ہوئے پروفیسر جیری رے مین نے بتایا، ’ذیابیطس کے شکار مریضوں کے خون میں شوگر کی زائد مقدار کے باعث پیروں اور دیگر بیرونی اعضاء میں محسوس کرنے والے اعصاب کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس مرض کی بروقت تشخیص کے لیے پیروں کا باقاعدگی سے مکمل طبی معائنہ ضروری ہے جس سے فُٹ السر جیسے عوارض سے تحفظ ممکن ہو سکتا ہے‘۔ ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل اور انٹرنیشنل ڈایابیٹز فیڈریشن کے اعزازی صدر پروفیسر عبد الصمد شیرا نے ایک صحت مند طرزِ زندگی اپنانے اور ذیابیطس کے باقاعدگی سے معائنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ذیابیطس ایک وبائی مرض کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے انٹرنیشنل ڈایابیٹز فیڈریشن کی ہدایت ’کم کھائیں اور زیادہ چلیں‘ پر سنجیدگی سے عمل پر بھی زور دیا۔ پروفیسر عبد الصمد نے کہا، ’والدین پانچ سال کی عمر سے ہی بچوں کو فاسٹ فوڈ اور سوڈا مشروبات سے پرہیز کرانا شروع کردیں۔ یہ وزن میں اضافے کا سبب ہیں اور زائد وزن اور موٹاپا ٹائپ 2 ذیابیطس کی اہم وجوہات میں سے ہیں۔ اسکول کی سطح سے ہی ذیابیطس کی تشخیص اور علاج کے لیے قومی صحت پالیسی میں اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ بروقت تشخیص اور فوری علاج اس بیماری کے باعث لاحق ہونے والی پیچیدگیوں سے بہتر تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…