پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

148بیماریوں کا صرف ایک علاج، لاعلاج قرار دئیے گئے مریض بھی شفایاب،نہ کوئی سائیڈ ایفیکٹس، جانئے حیران کن طریقہ علاج

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک)عالمی ادارہ صحت نے آکو پنکچر کو148بیماریوںکے لیے شفاء بخش قرار دے دیا جبکہ 120ممالک میں آکو پنکچر طریقہ علاج کو باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہے اور لاکھوں مریض شفاء یاب ہو چکے ہیں، اس طریقہ علاج کے تحت بچوں کی ذہنی معذوری گنٹھیا، کمر درد،عرق النسا،گردن کا درد اور اکڑائو، کندھے کاجام ہونا ،گھٹنوں کا درد، آدھے سر کا درد، لقوہ، فالج ،چہر ے

کا عصبی درد چہرے کے داغ دھبے ،الرجی اور سورائسس کا علاج بڑی کامیابی سے کیا جا رہا ہے،ایسے امراض جن کو ایلوپیتھی طریقہ علاج کے معالجین لا علاج قرار دیتے ہیں اور اپنے مریضو ں کو اپنی زندگی اسی طرح گزارنے کا کہتے ہیں آکو پنکچر طریقہ علاج کے تحت ہی ان کا علاج ممکن ہے اور اس کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس بھی نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹرمحمد شفیق ،ڈاکٹر سید فیض الحسن،ڈاکٹر ایم ایس بابر،ڈاکٹر محمد افضل میو،ڈاکٹرعلی محمد بلال، ڈاکٹر محمد ابو بکراور ڈاکٹر انعم حاجرہ نے ورلڈآکوپنکچر ڈے کے موقع پر منعقدہ مجلس مذاکرہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آکو پنکچر طریقہ علاج انتہائی سستا ہے ۔جو ہر آدمی با آسانی کروا سکتا ہے۔آکو پنکچر کے ذریعے 90فیصد مریض شفاء پاتے ہیں۔وہی مریض شفاء یاب نہیں ہوتے جو اپنے معالج کی بات نہیں مانتے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سینئر آکو پنکچرسٹ ڈاکٹرز ،حکماء اورہومیو ڈاکٹرز آکو پنکچرسٹ پر مشتمل نیشنل کونسل فار آکو پنکچر کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ پاکستان میں بھی آکو پنکچر آکو پنکچر طریقہ علاج انتہائی سستا ہے ۔جو ہر آدمی با آسانی کروا سکتا ہے۔آکو پنکچر کے ذریعے 90فیصد مریض شفاء پاتے ہیں۔وہی مریض شفاء یاب نہیں ہوتے جو اپنے معالج کی بات نہیں مانتے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سینئر آکو پنکچرسٹ ڈاکٹرز ،حکماء اورہومیو ڈاکٹرز آکو پنکچرسٹ پر مشتمل نیشنل کونسل فار آکو پنکچر کا قیام عمل میں لایا جائےطریقہ علاج فروغ پا سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…