ایسپرن سے جگر کے کینسر کے خدشات میں کمی واقع ہوسکتی ہے : تحقیق

  منگل‬‮ 16 اکتوبر‬‮ 2018  |  10:10

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) ایسپرن صرف سر درد میں مدد دینے کے علاوہ بھی بہت سے فوائد پہنچا سکتی ہے جیسے عام جگر کے کینسر کے خدشے کو کم کرسکتی ہے۔ ہیلتھ لائن کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے میسا چوسٹس جنرل ہسپتال سے منسلک تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے ملنے والے شواہد بتاتے ہیں کہ ایسپرن سے جگر کے کینسر، جسے ہیپٹا سیلیولر کارسینوما بھی کہتے ہیں، پیدا ہونے کے خدشات کم ہوجاتے ہیں۔ ان کی تحقیق امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن، اونکولوجی، کے اکتوبر کے مہینے کے جرنل میں شائع ہوئی۔  دس ٹپس جو اسپرین کو حیرت


انگیز ثابت کردیں تحقیق کاروںنے 1980 میں شروع ہونے والی 2 طویل المدتی تحقیق کی تفصیلات کو جانچا۔ اس تحقیق کے شراکت دار، جن کا تعلق صحت کے شعبے ہی سے تھا، نے 30 سال تک ہر 6 ماہ میں اپنی ادویات کے استعمال کے حوالے سے تفصیلات بتائی تھیں۔ تقریباً 1 لاکھ 34 ہزار شراکت داروں، جن میں 46 ہزار خواتین اور 88 ہزار مرد شامل تھے، کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسپرن کا استعمال روزانہ کی بنیاد پر کیا۔   کینسر کی 12 علامات جنھیں نظرانداز نہ کریں تحقیق کاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ 5 سال تک ہر ہفتے ایسپرن کی کم از کم 2 گولیاں، 325 ملی گرام، لینے سے جگر کے کینسر پیدا ہونے کے خدشات میں کمی آتی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

نئی سیاسی کھچڑی

’’کرکٹ اگر مذہب ہوتا تو پورا برصغیر اس مذہب کا پیروکار ہوتا‘‘ یہ فقرہ کسی نے کہا تھا اور سچ کہا تھا‘ یہ واقعی حقیقت ہے سارک ممالک کرکٹ کے جنون میں مبتلا ہیں اور یہ خواہ کتنے ہی منقسم کیوں نہ ہوں یہ لوگ کرکٹ پر ایک ہو جاتے ہیں‘ پاکستان بھی اس جنون کی اعلیٰ ترین مثال ہے‘ ....مزید پڑھئے‎

’’کرکٹ اگر مذہب ہوتا تو پورا برصغیر اس مذہب کا پیروکار ہوتا‘‘ یہ فقرہ کسی نے کہا تھا اور سچ کہا تھا‘ یہ واقعی حقیقت ہے سارک ممالک کرکٹ کے جنون میں مبتلا ہیں اور یہ خواہ کتنے ہی منقسم کیوں نہ ہوں یہ لوگ کرکٹ پر ایک ہو جاتے ہیں‘ پاکستان بھی اس جنون کی اعلیٰ ترین مثال ہے‘ ....مزید پڑھئے‎