جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

آپ کے جسم کو روزانہ کتنے پانی کی ضرورت ہوتی ہے؟

datetime 16  جولائی  2018 |

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ کو معلوم ہے کہ روزانہ کتنے گلاس پانی پینا صحت کے لیے ٹھیک رہتا ہے ؟ یقیناً بیشتر افراد کے ذہنوں میں 8 کا ہندسہ گونجا ہوگا جو کہ ہمارے ذہنوں میں برسوں سے روزانہ پانی کے استعمال کی مثالی مقدار کی شکل میں چپک چکا ہے۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ روزانہ کتنا پانی پینا چاہئے اس کا انحصار فرد کے جسمانی وزن اور ساخت پر ہوتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق:

پر فرد کے لیے پانی کی مقدار مختلف ہوسکتی ہے مگر ہم متحرک بالغ افراد کو 2 سے 4 لیٹر پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ جسم میں اس سیال کی مقدار مناسب سطح پر رہ سکے جبکہ پانی کی ضرورت میں کمی بیشی کا انحصار موسم پر بھی ہوتا ہے۔ کیا ڈی ہائیڈریشن کی ان علامات سے واقف ہیں؟ اگر آپ ورزش کرتے ہیں تو پانی کا زیادہ استعمال کرنا چاہئے کیونکہ پٹھوں کو مناسب افعال اور مرمت کے لیے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح جسم گرم موسم میں پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کافی محنت کرتا ہے اور اگر پسینہ زیادہ آئے تو پانی زیادہ پینا چاہئے تاکہ ڈی ہائیڈریشن سے بچا جاسکے، یعنی پیاس محسوس کیے بغیر بھی دن بھر جب موقع ملے پانی پی لیں۔ کچھ طبی ماہرین جسمانی وزن اور اونس کو پانی پینے کا معیار قرار دیتے ہیں، جیسے اگر آپ کا وزن 180 پونڈ (81 کلو گرام سے زیادہ) ہو تو 90 اونس پانی یا 3 لیٹر پانی روزانہ جسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے ہٹ کر امریکا کا مایو کلینک نے خواتین کو روزانہ 2.7 لیٹر اور مردوں کو 3.7 لیٹر پانی پینے کا مشورہ دے رکھا ہے۔ جسم میں پانی کی کمی کیسے جانیں؟ پیشاب کی رنگت سے یہ جاننا ممکن ہے کہ آپ کو مزید پانی پینے کی ضرورت ہے یا نہیں، طبی ماہرین کے مطابق اگر پیشاب کی رنگت لیمونیڈ یا لیموں پانی کے قریب ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مناسب مقدار میں پانی استعمال کیا جارہا ہے، اگر اس کی رنگت گہری زرد ہے تو مزید پانی پینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح تھکاوٹ، خشک جلد، سانس میں بو، پٹھے کاڑنا، قبض اور غشی طاری ہونا بھی ڈی ہائیڈریشن کی عام علامات ہیں۔ عمر بھی جسمانی ہائیڈریشن کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ عمر بڑحنے سے پیاس کم محسوس ہونے لگتی ہے جس کی وجہ اس کا میکنزم کمزور ہونا ہے، تو درماینی عمر میں بغیر پیاس کے بھی دو سے 3 گھنٹے کے وقفے کے بعد پانی پی لینا چاہئےصرف پانی نہیں غذا بھی اہمزیادہ پانی والی غذاﺅں کا استعمال بھی جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچانے کے لیے کافی ہے۔کھیرے، تربوز، پالک اور متعدد دیگر سبزیاں اور پھلوں میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے تحفظ فراہم کرنے میں مددگار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…