پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

سارہ علی خان پر والدین نے کیسی پابندیاں لگارکھی ہیں؟

datetime 6  فروری‬‮  2019 |

ممبئی (این این آئی)سارہ علی خان بولی وڈ میں تیزی سے ابھرنے والی اداکارہ ہیں جن کا ڈیبیو دسمبر میں 2 فلموں سے ہوا جو دونوں ہی سپرہٹ ثابت ہوئیں۔اس سے ہٹ کر بھی اپنے فیشن اسٹائل اور مختلف انٹرویوز کی وجہ سے وہ بہت تیزی سے لوگوں کے دلوں میں گھر بنارہی ہیں۔مگر سیف علی خان اور امرتا سنگھ نے اپنی بیٹی پر کس قسم کی پابندیاں لگا رکھی ہیں؟ اس کا انکشاف سارہ علی خان نے خود ایک انٹرویو میں کیا۔

کچھ دن پہلے فلم فیئر کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے مختلف موضوعات پر بات کی جس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ بچپن سے ہی وہ فلموں میں کام کرنا چاہتی تھیں۔ان کا کہنا تھاجب میں4 سال کی تھی تو میں نے گانا کانٹا لگا، سنا، اس وقت میں اس کے الفاظ تو دہرا نہیں پاتی تھی مگر مجھے یہ احساس ہوگیا تھا کہ میں یہی کام کرنا چاہتی ہوں، وقت کے ساتھ دلچسپی بڑھتی چلی گئی اور اب 2 فلمیں کرنے کے بعد میں اسے ہمیشہ کرنا چاہتی ہوں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں ماں اور باپ سے ورثے میں کیا ملا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ والد کا ذہن اور ماں کا دل۔اسی طرح جب ان سے پوچھا گیا کہ والدین کی جانب سے ان پر کس قسم کی پابندیاں لگائی گئی ہیں تو ان کا جواب تھامیرے والدین کو اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ میں اپنے فیصلے خود کروں، بس انہوں نے مجھ پر جو پابندی لگائی ہے وہ جھوٹ بولنے سے بچنا، بددیانی نہ کرنا۔ بددیانتی آپ کی آنکھوں سے جھلکتی ہے اور کوئی بھی میک اپ آرٹسٹ اسے چھپا نہیں سکتا، تو حقیقی شخصیت کو ہی سامنے رکھیں۔جب ان سے سوتیلے بھائی تیمور علی خان کے بارے میں پوچھا گیا تو ہنستے ہوئے کہا کہ ہاں وہ ہمارے خاندان کا سب سے بڑا اسٹار ہے وہ جب گھر سے باہر نکلتا ہے تو خبروں کی زینت بن جاتا ہے، جبکہ ہمیں اس کے لیے کافی محنت کرنا پڑتی ہے۔سری دیوی کی بیٹی جھانوی کپور سے ان کی رقابت کی افواہوں پر سوال پر انہوں نے کہاوہ بھی زبردست ہے، ہم دونوں کے درمیان رقابت کی باتیں مضحکہ خیز ہیں، ہم دونوں اپنے آپ میں بہت زیادہ مطمئن اور پراعتماد ہیں، یہ انڈسٹری بہت بڑی ہے اور اس میں ہر ایک کے لیے جگہ ہے، آپ کو اپنے آپ میں مگن رہنا چاہئے اور دوسروں کے کام کا احترام کرنا چاہئے، میں جھانوی کا اخترام کرتی ہوں اور وہ میرا، ہم ان لوگوں کا احترام بھی کرتے ہیں جو ہمارے درمیان لڑائی کی باتیں کرتے ہیں، کیونکہ ان کا روزگار اس سے جڑا ہے، آپ ایسا کریں ہم برا نہیں مانیں گے، کبھی وہ زیادہ اچھی لگتی ہے کبھی میں، تو سب کچھ اچھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…