جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

اہی گیری کے شعبہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی دیکر برآمدات کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے، ماہرین

datetime 2  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن )ماہی گیری کے شعبہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی دیکر برآمدات کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے پاکستان میں ماہی گیری کا شعبہ زرمبادلہ کمانے والا چوتھا بڑا شعبہ ہے جس سے تقریبا 40 لاکھ سے زیادہ افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ماہی پروری و ماہی گیری کے شعبہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں شعبہ کا حصہ ایک فیصد ہے جس کی ترقی سے قومی معیشت

کی ترقی کے مطلوبہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سالانہ تقریبا 6.5 لاکھ ٹن مچھلی پکڑی جاتی ہے جس کو پراسیسنگ کے بعد یورپی یونین خلیجی ریاستوں سمیت امریکہ جاپان سری لنکا اور سنگا پور کے علاوہ دیگر ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیری کے شعبہ کی ترقی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ماہی پروری ماہی گیری اور پراسیسنگ کی سہولتوں سے برآمدات کو باآسانی ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…