جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

اہی گیری کے شعبہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی دیکر برآمدات کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے، ماہرین

datetime 2  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن )ماہی گیری کے شعبہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی دیکر برآمدات کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے پاکستان میں ماہی گیری کا شعبہ زرمبادلہ کمانے والا چوتھا بڑا شعبہ ہے جس سے تقریبا 40 لاکھ سے زیادہ افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ماہی پروری و ماہی گیری کے شعبہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں شعبہ کا حصہ ایک فیصد ہے جس کی ترقی سے قومی معیشت

کی ترقی کے مطلوبہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سالانہ تقریبا 6.5 لاکھ ٹن مچھلی پکڑی جاتی ہے جس کو پراسیسنگ کے بعد یورپی یونین خلیجی ریاستوں سمیت امریکہ جاپان سری لنکا اور سنگا پور کے علاوہ دیگر ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیری کے شعبہ کی ترقی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ماہی پروری ماہی گیری اور پراسیسنگ کی سہولتوں سے برآمدات کو باآسانی ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…