اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

کوئلے کی درآمد 30 ملین ٹن تک پہنچنے کا امکان،رواں مالی سال 12 ملین ٹن کوئلہ درآمد ہوگا

datetime 11  فروری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)ملک میں کوئلے کی کھپت،استعمال بڑھنے اور عالمی معیار کے مطابق اس کی ہینڈلنگ کے بعد اب شاہراہوں اور سڑکوں کا موثر انفراا سٹرکچر ترسیل کے لیے ضروری ہے ۔انڈسٹری کے مطابق بجلی کی پیداوار میں20.25 فیصد کوئلہ دسمبر 2018 میں استعمال کیا گیا، اس طرح کوئلے کی کھپت 467، 255 ٹن تھی جبکہ یہ بات متوقع ہے کہ سال 2018-19 میں 12 ملین ٹن سے زیادہ کوئلہ درآمد کیا جائے گا۔

جو چند برس قبل ملکی کھپت سے مقدار میں دگنا ہے۔ اسی طرح سال 2020 تک کوئلے کی درآمد 30 ملین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے جو اس وقت 20 ملین ٹن ہے ، اس کی وجہ سیمنٹ سیکٹر میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کے منصوبے ہیں۔ ہر سال تقریبا 8 ملین ٹن کوئلہ سیمنٹ کے کارخانے درآمد کرتے ہیں جبکہ 12 ملین ٹن پاور پلانٹس درآمد کرتے ہیں جن میں ساہیوال پاور پلانٹ اور پورٹ قاسم پاور پلانٹس شامل ہیں۔ سیمنٹ سیکٹر میں کوئلے کی طلب 2 ملین ٹن اور کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس میں 8 ملین ٹن تک اضافہ سال 2020 تک متوقع ہے ۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کراچی پورٹ پر مختلف وجوہ جیسے آلودگی اور دیگر اسباب کے تحت کوئلے کی ہینڈلنگ پر پابندی ہے اور اب کے پی ٹی نے کوئلے کی ہینڈلنگ کیلئے ایک ٹرمینل پورٹ قاسم پر پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل کے نام سے مخصوص کردیا ہے ۔ پی آئی بی ٹی ملک کا واحد ٹرمینل ہے جو جدید مشینری اور آلات کا حامل ہے جہاں 12 ملین ٹن ہینڈلنگ کی گنجائش ہے ۔کراچی پورٹ سے درآمد شدہ 60 فیصد کوئلے کی پورٹ قاسم تک ترسیل بہتر ہے لیکن اس کوئلے کی شمالی علاقہ جات تک ترسیل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کارگو ریل ٹریک کو اس کام کیلئے مخصوص کرے جو پورٹ قاسم کو ملک کے دیگر شہروں سے منسلک کرے جس سے آلودگی کے مسائل اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر قابو پایا جاسکے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…