اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

کوئلے کی درآمد 30 ملین ٹن تک پہنچنے کا امکان،رواں مالی سال 12 ملین ٹن کوئلہ درآمد ہوگا

datetime 11  فروری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)ملک میں کوئلے کی کھپت،استعمال بڑھنے اور عالمی معیار کے مطابق اس کی ہینڈلنگ کے بعد اب شاہراہوں اور سڑکوں کا موثر انفراا سٹرکچر ترسیل کے لیے ضروری ہے ۔انڈسٹری کے مطابق بجلی کی پیداوار میں20.25 فیصد کوئلہ دسمبر 2018 میں استعمال کیا گیا، اس طرح کوئلے کی کھپت 467، 255 ٹن تھی جبکہ یہ بات متوقع ہے کہ سال 2018-19 میں 12 ملین ٹن سے زیادہ کوئلہ درآمد کیا جائے گا۔

جو چند برس قبل ملکی کھپت سے مقدار میں دگنا ہے۔ اسی طرح سال 2020 تک کوئلے کی درآمد 30 ملین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے جو اس وقت 20 ملین ٹن ہے ، اس کی وجہ سیمنٹ سیکٹر میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کے منصوبے ہیں۔ ہر سال تقریبا 8 ملین ٹن کوئلہ سیمنٹ کے کارخانے درآمد کرتے ہیں جبکہ 12 ملین ٹن پاور پلانٹس درآمد کرتے ہیں جن میں ساہیوال پاور پلانٹ اور پورٹ قاسم پاور پلانٹس شامل ہیں۔ سیمنٹ سیکٹر میں کوئلے کی طلب 2 ملین ٹن اور کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس میں 8 ملین ٹن تک اضافہ سال 2020 تک متوقع ہے ۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کراچی پورٹ پر مختلف وجوہ جیسے آلودگی اور دیگر اسباب کے تحت کوئلے کی ہینڈلنگ پر پابندی ہے اور اب کے پی ٹی نے کوئلے کی ہینڈلنگ کیلئے ایک ٹرمینل پورٹ قاسم پر پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل کے نام سے مخصوص کردیا ہے ۔ پی آئی بی ٹی ملک کا واحد ٹرمینل ہے جو جدید مشینری اور آلات کا حامل ہے جہاں 12 ملین ٹن ہینڈلنگ کی گنجائش ہے ۔کراچی پورٹ سے درآمد شدہ 60 فیصد کوئلے کی پورٹ قاسم تک ترسیل بہتر ہے لیکن اس کوئلے کی شمالی علاقہ جات تک ترسیل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کارگو ریل ٹریک کو اس کام کیلئے مخصوص کرے جو پورٹ قاسم کو ملک کے دیگر شہروں سے منسلک کرے جس سے آلودگی کے مسائل اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر قابو پایا جاسکے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…