منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کوئلے کی درآمد 30 ملین ٹن تک پہنچنے کا امکان،رواں مالی سال 12 ملین ٹن کوئلہ درآمد ہوگا

datetime 11  فروری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)ملک میں کوئلے کی کھپت،استعمال بڑھنے اور عالمی معیار کے مطابق اس کی ہینڈلنگ کے بعد اب شاہراہوں اور سڑکوں کا موثر انفراا سٹرکچر ترسیل کے لیے ضروری ہے ۔انڈسٹری کے مطابق بجلی کی پیداوار میں20.25 فیصد کوئلہ دسمبر 2018 میں استعمال کیا گیا، اس طرح کوئلے کی کھپت 467، 255 ٹن تھی جبکہ یہ بات متوقع ہے کہ سال 2018-19 میں 12 ملین ٹن سے زیادہ کوئلہ درآمد کیا جائے گا۔

جو چند برس قبل ملکی کھپت سے مقدار میں دگنا ہے۔ اسی طرح سال 2020 تک کوئلے کی درآمد 30 ملین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے جو اس وقت 20 ملین ٹن ہے ، اس کی وجہ سیمنٹ سیکٹر میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کے منصوبے ہیں۔ ہر سال تقریبا 8 ملین ٹن کوئلہ سیمنٹ کے کارخانے درآمد کرتے ہیں جبکہ 12 ملین ٹن پاور پلانٹس درآمد کرتے ہیں جن میں ساہیوال پاور پلانٹ اور پورٹ قاسم پاور پلانٹس شامل ہیں۔ سیمنٹ سیکٹر میں کوئلے کی طلب 2 ملین ٹن اور کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس میں 8 ملین ٹن تک اضافہ سال 2020 تک متوقع ہے ۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کراچی پورٹ پر مختلف وجوہ جیسے آلودگی اور دیگر اسباب کے تحت کوئلے کی ہینڈلنگ پر پابندی ہے اور اب کے پی ٹی نے کوئلے کی ہینڈلنگ کیلئے ایک ٹرمینل پورٹ قاسم پر پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل کے نام سے مخصوص کردیا ہے ۔ پی آئی بی ٹی ملک کا واحد ٹرمینل ہے جو جدید مشینری اور آلات کا حامل ہے جہاں 12 ملین ٹن ہینڈلنگ کی گنجائش ہے ۔کراچی پورٹ سے درآمد شدہ 60 فیصد کوئلے کی پورٹ قاسم تک ترسیل بہتر ہے لیکن اس کوئلے کی شمالی علاقہ جات تک ترسیل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کارگو ریل ٹریک کو اس کام کیلئے مخصوص کرے جو پورٹ قاسم کو ملک کے دیگر شہروں سے منسلک کرے جس سے آلودگی کے مسائل اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر قابو پایا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…