منگل‬‮ ، 20 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان کرکٹ کو تباہ کردیا، سابق کرکٹرز کی پی سی بی کے فیصلے پر کڑی تنقید

datetime 2  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)انگلینڈ کے خلاف ابتدائی دو ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کے بعد قومی اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

سیریز کے دوران ہی 7 کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کردیا گیا، جس پر سابق کرکٹرز کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔اس فیصلے کا ایک حیران کن پہلو یہ بھی ہے کہ اسکواڈ سے الگ کیے جانے والے بعض کھلاڑیوں کو دونوں ٹیسٹ میچز میں پلیئنگ الیون کا حصہ بننے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔سابق کپتان شاہد آفریدی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے فیصلے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اقدام کی منطق سمجھ نہیں آئی۔ ان کے مطابق متبادل کھلاڑیوں کے انتخاب نے بھی کئی سوالات پیدا کردیے ہیں۔شاہد آفریدی نے کہا کہ انگلینڈ میں ٹیسٹ میچز کے لیے ٹی ٹوئنٹی طرز کے کھلاڑیوں کو شامل کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ صرف پانچ ٹیسٹ میچز کے بعد کوچ کو عہدے سے ہٹانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔سابق کپتان کا کہنا تھا کہ تجربہ کار افراد پر مشتمل سلیکشن کمیٹی کی جانب سے سامنے آنے والے فیصلوں میں یہ سب سے زیادہ حیران کن اقدام دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب شعیب ملک نے بھی قومی اسکواڈ میں کی جانے والی تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم سے باہر کیے جانے والے تمام کھلاڑی اب بھی پاکستان کے قومی کرکٹرز ہیں اور انہوں نے ملک کے لیے خدمات انجام دی ہیں۔شعیب ملک نے کھلاڑیوں کے بارے میں سخت زبان استعمال کرنے پر بھی اعتراض کیا۔ ان کے مطابق قومی کھلاڑیوں کو ’پہلی فلائٹ سے واپس بھیجنے‘ جیسے الفاظ کہنا مناسب نہیں اور اس سے ان کی تضحیک ہوتی ہے۔سابق کپتان نے زور دیا کہ احتساب کا عمل صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس نظام میں موجود ان افراد سے بھی سوال ہونا چاہیے جن کے فیصلوں کے باعث مسائل پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق بینچ پر بیٹھنے والے یا محض چند ٹیسٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو ناکامی کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔شعیب ملک کا مزید کہنا تھا کہ اگر احتساب کرنا ہی تھا تو اس کا آغاز دورہ مکمل ہونے کے بعد کیا جانا چاہیے تھا،

تاکہ ٹیم کو سیریز کے دوران غیر ضروری دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔انہوں نے سوشل میڈیا پر کھلاڑیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے کے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر خراب کارکردگی کے بعد کھلاڑیوں کو ذہنی دباؤ میں ڈالنے سے ان کے اندر ناکامی کا خوف پیدا ہوسکتا ہے، جو مستقبل میں ان کی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عمران خان بھٹو(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…