منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

بابر اور رضوان اندرونی سیاست کا شکار ہوئے، راشد لطیف

datetime 22  اگست‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم راشد لطیف نے بابر اعظم اور محمد رضوان کے ٹیم سے اخراج کو اندرونی سیاست کا شاخسانہ قرار دیدیا۔تفصیلات کے مطابق خلیج ٹائمز کو دئیے گئے انٹرویو میں راشدلطیف نے کہا کہ دونوں سابق کپتانوں کی کارکردگی میں کمی ضرور آئی ہے لیکن انہیں محض کرکٹنگ وجوہات نہیں بلکہ سیاست کی بناء پر ایشیا کپ سے باہر کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ پی سی بی میں جاری کھینچا تانی اور باہمی سیاست نے ملک کے دو بہترین کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر نقصان پہنچایا۔سابق کپتان نے کہا کہ پاکستان اس وقت آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر ہے ،ایسی صورتحال میں بابر اور رضوان جیسے کھلاڑیوں کو نظرانداز کرنا سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ ہمارے پاس کوئی ڈان بریڈمین موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کے اسٹرائیک ریٹ پر سوال اٹھانا بھی ناانصافی ہے کیونکہ کرکٹ میں محض اسٹرائیک ریٹ سب کچھ نہیں ہوتا، کھیل کی سمجھ سب سے اہم ہے۔راشد لطیف نے ورلڈ کپ 2024 کے لیے دوبارہ کپتانی قبول کرنے کو بابر اعظم کی سب سے بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ان کی بیٹنگ کو بری طرح متاثر کیا۔واضح رہے کہ ورلڈ کپ 2024 میں گروپ مرحلے ہی میں باہر ہونے اور امریکا کے ہاتھوں عبرتناک شکست پر بابراعظم نے کپتانی سے استعفیٰ دے دیا تھاتاہم اس کے بعد سے وہ فارم میں واپس نہیں آ سکے، ان کی اوسط اس وقت 28.73 تک گر گئی ہے۔راشد لطیف نے کہاکہ امید ہے بابر اپنے مسائل پر قابو پاتے ہوئے دوبارہ وہی بیٹر بنیں گے جو دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل تھا۔سابق کپتان کے مطابق یہ تب ہی ممکن ہے جب بابر کو سیاست اور غیر ضروری دباؤ سے آزاد ماحول میسر آئے گا۔راشد لطیف نے کہا کہ پاکستان میں اب یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ قومی ٹیم اور اس کی مینجمنٹ پر اسلام آباد یونائیٹڈ کا اثر غالب ہے۔ موجودہ کوچ مائیک ہیسن بھی 2023 سے اس فرنچائزکے ساتھ منسلک ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…