ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

حسن علی نے بابر اعظم کے بارے کمنٹ پر معذرت کیوں کی؟

datetime 17  اپریل‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی)کراچی کنگز کے نائب کپتان حسن علی نے کہا ہے کہ اگر اصلاح کیلئے تنقید ہو تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، جب ذاتی حملے ہوتے ہیں تو دل دکھتا ہے، بہت مرتبہ ہوتا ہے کہ پیچھے سے لوگ گالیاں دیتے ہیں۔لاہور قلندرز کے ہاتھوں شکست کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے حسن علی نے کہا کہ ہم بہت جلدی پیچھے پڑ جاتے ہیں، ریلیکس کریں۔حسن علی نے کہا کہ پہلا میچ ہم اچھا جیتے تھے لیکن آج بیٹنگ لڑکھڑا گئی، پرفارمنس میں تسلسل کیوں نہیں ہے اس پر بیٹھ کر سوچیں گے۔کراچی کنگز کے نائب کپتان نے کہا کہ ایک دو وکٹیں آسانی سے گنوائی جس کی وجہ سے شراکت نہیں لگ سکی۔

انہوں نے کہا کہ میرا کام پرفارمنس دینا ہے، نیشنل ٹی ٹوئنٹی بھی اچھا رہا، پرفارمنس دیں گے تو پاکستان کھیلیں گے۔حسن علی نے کہا کہ میری یہی سوچ ہے کہ مجھے کم بیک کرنا ہے، ابھی جوان ہوں پرفارم کرسکتا ہوں۔بابر اعظم سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ ہمارا ہی پراڈکٹ ہے ہم ہی اس کے پیچھے پڑے ہیں، بابر کو ہم نے ہی کنگ بنایا اور ہم ہی اس کو گرا رہے ہیں۔

حسن علی نے کہا کہ اگر میرا بیان ”کنگ کر لے گا” کسی کو برا لگا تو اس سے معافی مانگتا ہوں، تاہم میرا بیان آج بھی وہی ہے کہ بابر بہترین پلیئر ہے اور وہ کم بیک کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم صرف غیر ملکی پلیئرز پر انحصار نہیں کررہے، آج بس شراکت نہیں لگ سکی، جب اوپر نیچے وکٹیں گر جاتی ہیں تو پریشر آجاتا ہے۔حسن علی نے کہا کہ لوگ اچھی کرکٹ دیکھنا چاہتے ہیں، اگر ہم اچھی کرکٹ کھیلیں گے تو لوگ آئیں گے، سنا ہے کراچی میں عوام کو آنے میں دشواری ہوتی ہے مگر ہم اچھا پرفارم کریں گے تو پھر فین آئیں گے۔انہوںنے کہاکہ اندازہ ہے کہ نظر میں ہوتے ہیں تو یہ سب چیزیں ہوتی ہیں ، ہمارا کام کھیل پر فوکس کرنا ہے، ہمارا کام بس پرفارمنس کرکے ہی لوگوں جو خاموش کرانا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…