جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

چیمپئینز ٹرافی’ بھارت پاکستان کو ”درزی” کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گا؟

datetime 12  مارچ‬‮  2025 |

لاہور(این این آئی)چیمپئینز ٹرافی 2025 کے فائنل میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو شکست دیکر تیسری بار ٹرافی اپنے نام کی۔ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل پیسوں اور اثر رسوخ کا استعمال کرنیوالے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے سیکیورٹی کا بہانہ بناکر پہلے پاکستان آکر کھیلنے سے انکار کیا اور پھر چیمپئینز ٹرافی کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے کہنے پر ہائبرڈ ماڈل پر منتقل کردیا۔

ایونٹ کی شروعات سے قبل بھارتی میڈیا نے خبریں اڑائیں کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونیوالے ایونٹ کیلئے ٹیم کی جرسی پر لفظ پاکستان نہیں لکھیں گے تاہم آئی سی سی کی پھٹکار پر انہیں ایسا کرنا پڑا۔اسی طرح ایونٹ کے فائنل میں میزبان پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے کسی عہدیدار کو اسٹیج پر نہیں بلایا گیا، چیئرمین پی سی بی کی جانب سے پارلیمنٹ اجلاس کے باعث شریک نہیں ہوسکے تھے جبکہ چیمپئینز ٹرافی ٹورنامنٹ ڈائریکٹر ثمیر احمد سید کو دبئی پہنچے تاہم انہیں اسٹیج پر تو دور میچ کیلئے بھی مدعو نہیں کیا گیا۔دبئی میں اتوار کے روز بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے ایونٹ کے فائنل میں سربراہ پی سی بی محسن نقوی کی جگہ ثمیر پی سی بی کی نمائندگی کے لیے دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود تھے۔

آئی سی سی نے ثمیر احمد سید کو اختتامی تقریب میں نظر انداز کیا، بی سی سی آئی کے صدر روجر بنی نے بھارتی کھلاڑیوں کو سفید جیکٹس پیش کیں اور میچ آفیشلز کو میڈلز دیے جبکہ آئی سی سی چیئر مین جے شاہ نے بھارتی کپتان روہت شرما ٹرافی اور ٹیم کو میڈلز دیے۔بی سی سی آئی سیکریٹری دیوجیت سیکیا اور نیوزی لینڈ کرکٹ کے سی ای او روجر ٹوز بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ادھر پاکستان کے ایک ٹی وی شو کے دوران اینکر نے گفتگو کرتے ہوئے میزبان سے سوال کیا کہ پاکستان صرف کاغذ پر ہی میزبان تھا، ہماری کارکردگی میزبانوں والی نہیں تھی اور پھر ہمیں جس طرح نظر انداز کیا گیا ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔جس پر پروگرام میں شریک ایک مہمان نے کہا کہ ٹیم انڈیا کی سفید جیکٹ انہیں یاد دلائی گئی کہ پاکستان ٹورنامنٹ کا ”درزی” تھا، جس پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…