پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

انگلینڈ کیخلاف میچ میں رن ریٹ کے پیچھے جائیں گے، بابراعظم

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

کولکتہ (این این آئی)قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم نے کہا ہے کہ ہمارے ذہن میں نیٹ رن ریٹ کا پلان ہے، اس کے پیچھے جائیں گے اور پوری پلاننگ ہے کہ 10 اوور کیسے کھیلنا ہے بعد میں کیا کھیلنا ہے ،اگر فخر زمان 20 یا 30 اوور کھیل گیا تو ہم مطلوبہ رن ریٹ حاصل کرسکتے ہیں۔انگلینڈ سے میچ سے قبل پریس کانفرنس میں بابر نے اپنی کپتانی کے مستقبل کے سوال پر کہا کہ ابھی میرا فوکس اگلے میچ پر ہے، کپتانی کے مستقبل کا بعد میں دیکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے3 سال سے میں ہی پرفارم کررہا تھا، کپتانی بھی کررہا تھا، مجھے نہیں لگتا کہ مجھ پر کوئی پریشر ہے، ٹیم کا فیصلہ کوچز اور کپتان کا ہوتا ہے لیکن اگر کسی نے مشورہ دینا ہے تو نمبر سب کے پاس ہے، ٹی وی پر بیٹھ کر بات کرنا آسان ہے۔ قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ میری کارکردگی ایسی نہیں کہ لوگ کہیں کہ مجھ پر پریشر ہے، میرا ہدف تھا کہ بطور بیٹر اچھا فنش کروں، چاہتا تھا کہ ٹیم کو جتوانے کی کوشش کروں، صورتحال کے مطابق بیٹنگ کرتا ہوں، اس کے حساب سے پلان کرتے ہیں، کبھی کبھار کنڈیشنز فیور نہیں کرتیں کہ کھل کر کھیلیں، یہاں ہر وینیو پر مختلف کنڈیشنز ہیں، ہم پہلی بار بھارت آئے ہیں، ہمیں کنڈیشنز کا اندازہ نہیں تھا ، میں مانتا ہوں کہ توقعات کے مطابق پرفارم نہیں کر سکا۔

ورلڈکپ میں سیمی فائنل تک رسائی میں مشکل پر بات کرتے ہوئے بابراعظم نے کہا کہ افغانستان اور جنوبی افریقا والا میچ جیتنا چاہیے تھا، امید تو ہر موقع پر مثبت رکھنی چاہیے ،کسی ایک شعبے کو نہیں، بطور ٹیم ہم اچھا نہیں کھیل پائے،کوشش کریں گے کہ غلطیوں سے سیکھیں، اس لیول پر غلطی کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔انگلینڈ کے خلاف میچ کی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے بابراعظم نے کہا کہ ہمارے ذہن میں نیٹ رن ریٹ کا پلان ہے، اس کے پیچھے جائیں گے، پوری پلاننگ ہے کہ 10 اوور کیسے کھیلنا ہے اور بعد میں کیا کھیلنا ہے، اگر فخر زمان 20 یا 30 اوور کھیل گیا تو ہم مطلوبہ رن ریٹ حاصل کرسکتے ہیں جب کہ رضوان اور افتخار کا بھی اہم کردار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کرکٹ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، ہم اچھے نوٹ پر کوشش کریں گے، ہم فنش اچھا نہیں کر پارہے ہیں، ہم ون ڈے میں نمبر ون بھی رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…