پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

الحمدللّٰہ، مجھے اپنی ٹیم پر اس سے زیادہ فخر نہیں ہوسکتا، بابر اعظم نے ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے والی ٹیم کو قابل ’’قابل فخر جنگجو ‘ قرار دے دیا

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

میلبرن (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی) قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم ورلڈ کپ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو قابل فخر جنگجو قرار دے دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ الحمدللہ، اس سے زیادہ میں اپنی ٹیم پربہت زیادہ فخر ہے ۔ آپ سب سچے جنگجوؤں کی طرح لڑے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ فائنل میں بدقسمتی سے شاہین آفریدی انجری کا شکار ہوگئے۔میلبرن میں انگلش ٹیم سے فائنل میں شکست کے بعد پوسٹ میچ پریزینٹیشن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے جوز بٹلر الیون کو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیتنے پر مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ شائقین کرکٹ ہمیں سپورٹ کرنے میلبرن اسٹیڈیم آئے، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہمارا جہاں بھی میچ ہوا، ہمیں بھرپور سپورٹ ملی۔پاکستانی کپتان نے کہا کہ ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے فائنل میں پہنچنا ہمارے لیے اعزاز ہے، ہماری بولنگ دنیا کی تیز ترین بولنگ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انگلش ٹیم کے خلاف فائنل میں میرے خیال سے ہم نے 20 رنز کم بنائے اور بدقسمتی سے شاہین آفریدی انجری کا شکار ہوگئے۔قبل ازیں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہاہے کہ شاہین کی انجری نہ ہوتی تو نتیجہ بدل سکتا تھا۔تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے فائنل میں انگلینڈ نے پاکستان کو 5 وکٹوں سے شکست دیکر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا تاج اپنے سر سجا لیا۔فائنل میں شکست کے بعد پوسٹ میچ پریزنٹشن میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ انگلینڈ کو جیت کے لیے مبارک باد دیتا ہوں جبکہ شائقین کرکٹ ہمیں سپورٹ کرنے آئے ان کا بہت شکریہ۔ہمارا جہاں بھی میچ ہوا ہمیں بہت سپورٹ ملی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے فائنل میں پہنچنا اعزاز رہا،

میرے خیال سے ہم نے 20 رنز کم بنائے ہماری بولنگ دنیا کی تیز ترین بولنگ ہے،بدقسمتی سے شاہین آفریدی انجری کا شکار ہوئے۔بعد ازاں میلبرن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر نے کہا کہ افسوس ہوا فائنل ہارنے کا، ہم نے 20 رن کم بنائے تاہم پھر بھی بولرز نے ایفرٹ دکھائی،

شاہین کی انجری سے بھی اچھا موقع ہاتھ نہ آسکا۔انہوں نے کہاکہ دباؤ نہیں لیا، وکٹیں جلدی گرتی چلی گئیں، پاٹنر شپ بنانے کی وجہ ڈاٹ گیندیں زیادہ ہوگئیں، اس وقت ایک اچھی پاٹنرشپ کی اشد ضرورت تھی، ڈاٹ بالز پاکستان ٹیم کی خامی رہی ہے

جس کو دور کرنا ہوگا۔بابراعظم نے کہا کہ مڈل آڈر پر خاصی تنقید ہو رہی تھی لیکن ورلڈ کپ میں مڈل آڈر نے اچھا پرفارم کیا، اوور آل ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہوں، شاہین کی انجری نہ ہوتی تو نتیجہ بدل سکتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…