منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

جون کے مہینے میں میچز کرانا زیادتی ہے ،‘ عاقب جاوید

datetime 8  جون‬‮  2022 |

لاہور( این این آئی)سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید نے کہا ہے کہ جون کے گرم موسم میں جب لو چل رہی ہو اور درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہو تو ایسے میں میچز کرانا زیادتی ہے، خاص طور پر بولرز کے لیے تو ایسا ہے جیسے وہ موت کے کنوئیں میں کرکٹ کھیل رہے ہوں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید نے کہا کہ گرم موسم میں ون ڈے میچ کھیلنا مشکل ہے، اس موسم میں ٹی ٹونٹی میچز کھیلے جا سکتے ہیں کیونکہ ان میچز کا آغاز تاخیر سے ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 6 روز میں 3 ون ڈے میچز کسی اور وقت میں بھی کرائے جا سکتے تھے، ستمبر، اکتوبر، نومبر یا کسی اور مہینے میں اس کی ونڈو نکالی جا سکتی تھی، ورلڈ کپ کوالیفائنگ کے لیے یہ میچز کرانا ضروری ہیں لیکن کوئی اور ونڈو تلاش کی جا سکتی تھی۔عاقب جاوید نے کہا کہ اب جبکہ ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے منع کیا جا رہا ہے کہ گھروں سے نہ نکلیں لیکن دوسری طرف میچ میں فاسٹ بولر 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرے گا، انسانی لحاظ سے اس درجہ حرارت میں تو کرکٹ کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہیے، فاسٹ بولرز تو موت کے کنوئیں میں کرکٹ کھیل رہے ہوں گے، بیٹرز جب لمبی اننگز کھیلیں گے تو انہیں بھی مشکل ہو گی، کوالٹی کرکٹ تو ہونی نہیں، بس پوائنٹس کے لیے کھیلا جا رہا ہے۔انہوںنے کہا کہ شاہین آفریدی، حارث رئوف، محمد رضوان اور شاداب خان انگلینڈ سے واپس آئے ہیں، انگلینڈ اور پاکستان کا موسم مختلف ہے، ٹھنڈے موسم سے گرم موسم میں ہم آہنگ ہونے کے لیے دو تین ہفتے درکار ہوتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا، اس سے کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…