ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

مصباح نے قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن کو ٹرمپ کارڈ قراردیدیا

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے پاکستان کی بیٹنگ لائن کو ٹرمپ کارڈ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دورہ آسٹریلیا میں ماضی کے برعکس بہتر نتائج کی توقع ہے ۔ ایک انٹرویومیں مصباح نے قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن کو ٹرمپ کارڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایشین ٹیموں کو آسٹریلیا میں ہمیشہ مشکل ہوتی ہے لیکن ہماری لیے اچھی بات یہ ہے کہ ہماری

بیٹنگ لائن تجربہ کار ہے، گزشتہ دورے میں رنز کرنے والے اظہر علی، اسد شفیق اور شان مسعود اس ٹیم کا حصہ ہیں جبکہ ان کا دورہ جنوبی افریقہ بھی اچھا رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اچھے نوجوان فاسٹ باؤلرز اور ساتھ میں یاسر شاہ بھی ہیں، یہ ٹیم پرعزم ہے لہٰذا آپ اچھے نتائج کی توقع کر سکتے ہیں۔پاکستان کی ٹیم 17-2016 کے دورہ آسٹریلیا میں مصباح الحق کی زیر قیادت کسی بھی ٹیسٹ میچ میں میزبان ٹیم کی 20وکٹیں لینے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی تاہم اس کے باوجود مصباح کو امید ہے کہ باؤلرز اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔گزشتہ دورہ آسٹریلیا میں یاسر شاہ کی بری طرح ناکامی کے باوجود ہیڈ کوچ کو ان سے اچھی کارکردگی کی امید ہے۔ہمارا سب سے مثبت پہلو نوجوان فاسٹ باؤلرز اور یاسر شاہ ہیں، یاسر آسٹریلین کنڈیشنز سے واقفیت رکھتے ہیں اور ڈومیسٹک کرکٹ میں اس کی تیاری بھی کی تھی، انہوں نے طویل اسپیل بھی کیے ہیں اور وہ اب جانتے ہیں کہ گزشتہ دورہ آسٹریلیا کے دوران کس چیز کی کمی تھی، ہم تیاری پہلے سے بہتر ہے۔اس موقع پر انہوں نے سیریز کے دوران وکٹوں کے حصول کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے میچ میں 20وکٹیں لینا سب سے اہم ہے کیونکہ اس کے بغیر ہم جیت نہیں سکتے، ہماری بیٹنگ لائن اسکور بورڈ 400-500 رنز سجانے کی صلاحیت رکھتی ہے جس سے ہمارے باؤلرز کو بھی مدد ملے گی۔یاد رہے کہ محمد عامر اور وہاب ریاض کی کھیل کے طویل فارمیٹ سے علیحدگی کے بعد پاکستان کی موجود باؤلنگ لائن ناتجربہ لائن باؤلرز پر مشتمل ہے اور اس کا تمام تر انحصار محمد عباس پر ہو گا جبکہ عمران خان جونیئر کی تین سال کے طویل عرصے بعد ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔16سالہ شاہین شاہ اور محمد موسیٰ نے ابھی تک ایک بھی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا جبکہ 19سالہ شاہین شاہ آفریدی بھی صرف تین ٹیسٹ میچوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ٹی20 سیریز میں شکست کے حوالے سے مصباح نے کہا کہ جب ہم مختلف آپشنز آزمانے اور مشکلات کا حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس طرح کی صورتحال سے گزرنا پڑتا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…