ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

میانداد پی سی بی میں نام نہاد جمہوریت سے تنگ آگئے

datetime 17  مئی‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک) سابق کپتان جاوید میانداد پی سی بی میں نام نہاد جمہوریت سے تنگ آگئے۔ان کے مطابق یہی چیز ہماری کرکٹ کو لے ڈوبی، کوئی ایک بار چیئرمین منتخب ہوجائے تو کسی کو جوابدہ نہیں ہوتا، آئی سی سی نہیں جانتی کہ یہاں ووٹ بکتے بھی ہیں، اسکول سطح پر ہی رشوت اور اقربا پروری سے سلیکشن کے بعد مضبوط قومی ٹیم کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا۔ تفصیلات کے مطابق ایک غیرملکی ویب سائٹ کو انٹرویو میں جاوید میانداد نے کہا کہ میں اپنی اس رائے پر قائم ہوں کہ آئی سی سی کی وجہ سے پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچا،ہمارا 40 سال سے ایک سسٹم چل رہا تھا۔
اس سے ایسا ٹیلنٹ بھی حاصل ہوا جو حریفوں کو ٹکر دینے کے قابل تھا،کونسل نے ہمارے حالات کو نہ سمجھتے ہوئے نام نہاد جمہوریت تھوپ دی جس کا ناقابل تلافی نقصان ہوا، اسے اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے ملک میں ووٹ بکتے بھی ہیں، کوئی سیاسی اثر و رسوخ سے ایک بار چیئرمین منتخب ہوجائے تو کسی کو جوابدہ نہیں ہوتا، اپنی کرسی پکی سمجھتے ہوئے فکر سے آزادی محسوس کرتا ہے، میرے خیال میں پی سی بی بلکہ آئی سی سی کی باگ ڈور بھی سابق کرکٹرز کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو کھیل اور کھلاڑیوںکے مسائل کو سمجھ سکیں،پاکستان میں مغربی ممالک جیسی جمہوری روایات نہیں، ہمارے بورڈ کا معاملہ بھی مختلف ہے۔
یہاں معاملات سدھارنے کیلیے لاٹھی ہاتھ میں پکڑنا پڑتی ہے لیکن سیاسی مصلحتیں ایسا ممکن نہیں ہونے دیتیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ پی سی بی کے امور صحافیوں یا سفارتکاروں کے بجائے سابق کرکٹرز کے ہاتھوں میں دیے جائیں۔ ون ڈے کرکٹ میں گرین شرٹس کی رینکنگ مسلسل زوال پذیر ہونے کے سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ اس کی وجوہات بھی سسٹم کی خرابی میں تلاش کرنی چاہیں، تکنیک اور مزاج سے عاری کھلاڑی سفارش کے بل بوتے پر آگے آجاتے ہیں، اسکول کی سطح پر رشوت اور اقرباپروری کے ذریعے پلیئرز کا انتخاب کرکے مضبوط قومی ٹیم کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…