پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

رمیز راجہ نے بنگلہ دیش کے خلاف شکستوں کو کرکٹ کی تاریخ کا بدترین مقام قرار دیدیا

datetime 26  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور تبصرہ نگار رمیز راجہ نے بنگلہ دیش کےخلاف شکستوں کو شرمناک اور پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا بدترین مقام قرار دیا۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی ٹیم پر خود کو ازسر نو دریافت کرنے اور بنگلہ دیش کو ٹیسٹ سیریز میں فتح سے دور رکھنے کا دباو ہو گا۔ رمیز راجہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے نئے آئیڈیا کی کمی اور ملکی کرکٹ کی کوئی سمت متعین نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا۔سابق کپتان نے کہا کہ شکست کی وجہ پاکستان کی پرانی اور دقیانوسی 80 اور 90 کی دہائی کی سوچ ہے جس کے تحت وکٹیں محفوظ رکھ کر آخری دس اوورز میں تیز کھیلنے کی حکمت عملی پر چلا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اب وہ ٹیلنٹ نہیں آ رہا جو ماضی میں آیا کرتا تھا اور اگر کوئی باصلاحیت کھلاڑی آتا بھی ہے تو ٹیم مینجمنٹ اسے صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتی۔انہوںنے کہاکہ نئے کھلاڑی ڈرپوک اور ان کی ذہنیت بہت محدود ہے، وہ تکنیکی اور ذہنی مسائل کا شکار ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اننگ کس طرح بنائی جاتی ہے۔قومی ٹیم کے سابق کپتان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کو جارحانہ انداز اپنانے اور مجموعی حکمت عملی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے پاکستان کو انڈین پریمیئر لیگ کی طرز پر اپنی لیگ بھی لانچ کرے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اس سے کھلاڑیوں کھیل کو بہتر طریقے سے سمجھنے کا موقع ملے گا۔رمیز نے کہا کہ مجھے خدشہ تھا کہ سعید اجمل اور محمد حفیظ نئے ایکشن کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلے کی طرح موثر ثابت نہیں ہو سکیں گے۔انہوں نے سیریز میں پاکستان کے لیے واحد مثبت پہلو نئے کپتان اظہر علی کو قرار دیا جو سیریز میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری کے ساتھ پاکستان کے سب سے کامیاب بلے باز رہے۔قومی ٹیم کے سابق کپتان نے ٹیسٹ سیریز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش اپنا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا کیونکہ یہ ان کے پاس تاریخ رقم کرنے کا سنہری موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم اس وقت انجریز اور شکستوں سے بری طرح متاثر ہے اور یہ بہت بڑا چیلنج ہو گا، ڈرامائی طور پر تبدیلی کافی مشکل ہے کیونکہ کوچنگ اسٹاف کے ساتھ ساتھ اکثر کھلاڑی بھی وہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…