پرتھ(نیوز ڈیسک) آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک نے کہا ہے کہ آج کل ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میچ میں کسی بلے باز کا ٹرپل سینچری بنانا خارج از امکان نہیں رہا۔کلارک نے اس امکان کا اظہار بدھ کو یہاں افغانستان کے خلاف 275 رنز کی ریکارڈ فتح کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔ورلڈ کپ پول ‘اے’ کے اس میچ میں آسٹریلین اوپنر ڈیوڈ وارنر (178 رنز) ون ڈے کرکٹ میں ڈبل سینچری سکور کرنے والے پانچویں بلے باز بنتے بنتے رہ گئے۔یاد رہے کہ ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ انفرادی سکور کا اعزاز انڈیا کے روہیت شرما کے پاس ہے ، جنہوں نے گزشتہ سال نومبر ، کولکتہ میں سری لنکا کے خلاف 264 رنز سکور کیے تھے۔حال ہی میں یہ ویسٹ انڈیز کے کرس گیل نے زمبابوے کے خلاف ورلڈ کپ میچ میں 215 رنز بنائے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ چاروں ڈبل سینچریاں 2010 کے بعد بنیں۔کلارک کے مطابق اب 50 اوورز کے کھیل میں کسی بلے باز کا ٹرپل سینچری بنانے پر تعجب نہیں ہونا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں یہ سنگ میل عبور کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کئی جارحانہ بلے باز موجود ہیں۔’ڈیوڈ وارنر، کرس گیل یا پھر اے بی ڈویلئرز جیسے بلے باز۔۔۔۔ میرے خیال میں چھوٹے سائز کے میدان میں ایسا ہونا ممکن ہے’۔’اس کے لیے آپ کوغالباً اوپنر آنا ہو گا تاکہ آپ کے پاس کھیلنے کیلئے پورے 50 اوورز ہوں۔اس کھیل میں آج کل ہم ہر قسم کے شاٹس، گیندیں اور جارحیت دیکھ رہے ہیں’۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اختتام کا آغاز
-
ایران، اسرائیل امریکا جنگ،بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم خبر آگئی
-
عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں، حکومت پاکستان کا بڑا فیصلہ!
-
دو چھٹیوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
-
پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا
-
سونا ہزاروں روپے مہنگا فی تولہ قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
پنجاب میں موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کے لیے اہم خبر آگئی
-
خامنہ ای سے ملاقات کیلئے لوگوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جایا جاتا تھا، بڑا دعویٰ
-
ایرانی سپریم لیڈر کی موت پر اظہار افسوس کرنے پر سابق گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور کو بیٹے نے تنقید کا...
-
ایران کا اسرائیل پر مہلک حملہ، کئی افراد ہلاک
-
آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملے میں شہادت پرروسی صدر پیوٹن کا بھی ردعمل بھی آگیا
-
روس کی تیسری عالمی جنگ کی دھمکی
-
آیت اللہ خامنہ ای ایک ہاتھ چادر کے نیچے کیوں ڈھانپ کر رکھتے تھے؟



















































