تیرے در کو چھوڑ کر کہاں جاؤں؟
حبیبہ عدویہ رحمتہ اللہ علیہ کی بابت آتا ہے کہ نماز عشاء کے بعد کوئی ایک ساعت گزرتی تو وہ اپنے گھر کی چھت پر چلی جاتیں، اپنی اوڑھنی اپنے گرد کس کر لپیٹ لیتیں کہ بار بار نہ کھلے، قیامِ شب میں کھڑی ہوجاتیں اور اس سے پہلے یوں گویا ہوتیں۔الٰہی ! تارے گہرے… Continue 23reading تیرے در کو چھوڑ کر کہاں جاؤں؟











































