بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

جب ایک کافر ملک کے بادشاہ نے حاجیوں کو لوٹنا اور تنگ کرنا شروع کیا تو صلاح الدین ایوبی ؒ نے جواب میں کیا، کیا؟

datetime 17  جنوری‬‮  2019 |

اسلامی تاریخ کے عظیم سپہ سالار صلاح الدین ایوبی نے 29 ستمبر 1182 کو دریائے اردن عبور کیا تاکہ کرک اور شوباک پر موجود فوجوں کو آڑے ہاتھوں لے اوراس میں کامیابی حاصل کرکے اس نے کافی فوجیوں کو قیدی بنا لیا-

اس وقت وہ افواج جو Guy of Lusignan کے ماتحت تھیں انہیں sepphoris کے علاقے سے ہٹا کر الفولا بھیج دیا گیا- دوسری جانب صلاح الدین ایوبی نے 500 فوجیوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گروپ بھیجا جو ان فوجیوں کو ڈرا دھمکا سکیں اور خود عین جالوت کی جانب پیش قدمی شروع کردی- صلیبی افواج اس وقت کی سب سے زیادہ بڑی اور طاقتور افواج میں شمار ہوتی تھی مگر اس کے باوجود صلاح الدین کے لشکر نے ان کو شکست دی اور عین جالوت کی جانب بڑھنے لگے- ایوبی فوج نے زرین فوربلیٹ اور تبور کی پہاڑی پر کئی حملے کیے- Chatillon کے بادشاہ رینالڈ نے مسلمان تاجروں اور حاجیوں کو دریائے احمر کے راستے پریشان کیا- یہ وہ راستہ تھا جو صلاح الدین ایوبی آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنا چاہتا تھا- اس کے جواب میں صلاح الدین نے 30 چھوٹی کشتیوں پر مشتمل ایک بیڑا تیار کروایا اور سنہ 1182 میں بیروت پر حملہ کر دیا اور اس بادشاہ کی سلطنت کو تہس نہس کر دیا- رینالڈ نے شہرِ مکہ اور مدینہ پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی اور میں حاجیوں کے قافلوں کو لوٹاتھا-

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…