بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

روسی انقلاب کے دور میں اذان اور نماز پر پابندی تھی لیکن ایک نوجوان روزانہ پانچ مرتبہ اذان دے کر کھلے عام نماز پڑھتا تھا،روسی پولیس اس سے اذان اور نماز نہ رکوا سکے، وہ پولیس کو کیسے چکما دیتا تھا؟ ایک انتہائی ایمان افروز واقعہ

datetime 13  جنوری‬‮  2019 |

حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی سمرقند کے سفر کا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ سمرقند میں عالم ایک نوجوان کو مجھ سے ملانے کیلئے لائے اور بتایا کہ یہ وہ خوش نصیب نوجوان ہے جو روسی انقلاب کے زمانے میں روزانہ پانچ مرتبہ اذان دے کر کھلے عام نمازیں پڑھتا تھا۔ یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی اور پوچھا وہ کیسے؟ اس نوجوان نے اپنی پیٹھ پر سے کپڑا ہٹا دیا‘

ہم نے دیکھا تو اس کی پیٹھ کے ایک ایک انچ پر زخموں کے نشانات موجود تھے‘میں نے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے۔ اس نے اپنی داستان بیان کرنا شروع کی‘ وہ کہنے لگا جب میں نے پہلی مرتبہ اذان دی تو پولیس والے مجھے پکڑ کر لے گئے اور خوب مارا‘ میں جان بوجھ کر اس طرح بن گیا جس طرح کوئی پاگل ہوتا ہے وہ جتنا زیادہ مارتے میں اتنا زیادہ ہنستا‘ ایک وقت میں کئی کئی پولیس والے مارتے مارتے تھک جاتے مگر میں اللہ کے نام پر مار کھاتے کھاتے نہ تھکتا۔ مجھے بجلی کے جھٹکے بھی لگائے گئے مگر میں نے برداشت کر لئے۔ مجھے کئی کئی گھنٹے برف پر لٹایا گیا‘ مجھے پوری پوری رات الٹا لٹکایا گیا‘ مجھے گرم چیزوں سے داغا گیا‘ میرے ناخن کھینچے گئے مگر میں اس طرح محسوس کرواتا جیسے کوئی پاگل ہوتا ہے میں جان بوجھ کر پاگلوں والی حرکتیں کرتا تھا‘ پولیس والوں نے ایک سال میری پٹائی کرنے کے بعد مجھے پاگل خانے بھجوا دیا‘ وہاں بھی میں نے ایک سال اسی طرح گزارا حتیٰ کہ ڈاکٹروں نے لکھ کر دے دیا کہ یہ شخص پاگل ہے اس کا ذہنی توازن خراب ہے یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ اپنے آپ میں مگن رہتا ہے لہٰذا اب اس کو دوبارہ گرفتار نہ کیا جائے چنانچہ اس ڈاکٹری رپورٹ پر مجھے آزاد کر دیا گیا جب میں باہر آیا تو میں نے ایک جگہ پر چھوٹی سی مسجد نماز کیلئے بنائی میں وہیں دن میں پانچ مرتبہ اذانیں دیتا اور پانچ نمازیں کھلے عام پڑھا کرتا تھا۔میں نے اس نوجوان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور اس کے چہرے کو بار بار دیکھتا رہا اور اس کی ثابت قدمی پر رشک کرتا رہا۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…