ان کا نام عاصیہ تھا۔ جس کے معنی هیں” نافرمان عورت “جب مشرف با اسلام ہوئیں تو حضور اکرمﷺ نے انکا نام “جمیلہ” رکھ دیا۔ جمیلہؓ کی شادی حضرت عمرؓ کے ساتھ ہوئی۔حضرت عاصم بن عمرؓ انہی کے بطن سے پیدا ہوئے۔
ابھی عاصمؓ چھوٹے بچے ہی تھے کہ گھریلو ناچاقی کی بناء پر حضرت عمرؓ نے جمیلہؓ کو طلاق دے دی۔ وقت گزرتا گیا پھر وہ وقت آیا جب حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ بنے۔ اس وقت حضرت عمرؓ قبا میں تشریف فرما تھے لیکن جب ابوبکرؓ خلیفہ بنے تو آپ مدینہ تشریف لے آئے۔ ایک دن حضرت عمرؓ مدینے کی گلیوں سے گزر رہے تھے کہ آپکو اپنا بیٹا عاصمؓ ( جو کہ اپنے وقت کے مشہور جرنیل بنے اور مختلف جنگوں میں فتوحات حاصل کی ) حضرت ابوبکرؓ کے بیٹوں کے ساتھ کھیلتا نظر آیا۔ آپؓ پدر شفقت سے مجبور ہو کر اسے اٹھاکر پیار کرنے لگے اور اپنے ساتھ لیکر چلنے لگے تو کسی نے جمیلہ ؓ کو بتا دیا وہ بھاگ کر آئیں اور اپنا بچہ چھیننے لگیں۔ ادھر حضرت عمرؓ بھی بضد تھےکہ وہ ہی عاصمؓ کو لیکر جائیں گے کیونکہ وہ اسکی بہترین پرورش کر سکتے تھے اور ادھر جمیلہؓ بضد تھیں کہ وہ ماں ہیں عاصمؓ کو کبھی نہیں دیں گی۔ اختلافی باتیں بڑھیں لوگوں کا جم غفیر ہوا اور جھگڑے نے طول پکڑ لیا تو مقدمہ خلیفہ وقت ( حضرت ابوبکرصدیقؓ) کی عدالت میں پیش ہو گیا۔ دونوں ماں باپ نے اپنے اپنے حق میں دلائل دینا شروع کر دیے۔ صدیق اکبرؓ نے مقدمے کی بغور سماعت کی اور فیصلہ صادر فرما دیا۔ ” عاصمؓ اپنی ماں جمیلہؓ کے پاس رہے گا ” دنیا نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ نے فیصلہ اپنے خلاف سنا اور پھر خلیفتہ الرسول کے سامنے اپنا سر جھکا دیا اور اس فیصلے پر کوئی انگلی نہیں اٹھائی اور عاصمؓ کو جمیلہؓ کے حوالے کر دیا۔

















































