بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

غلامی جسم کی نہیں دماغ کی ہوتی ہے

datetime 11  جنوری‬‮  2019 |

گوتم بدھ نے 563قبل مسیح میں بودھ مت کی بنیاد رکھی تھی۔مہاتما بودھ کہا کرتے تھے ’’خواہش ہمیشہ دکھ دیتی ہے‘ اگر تم نروان یعنی سکون حاصل کرنا چاہتے ہو تو تم اپنی خواہشات کم کر دو‘‘ گوتم بودھ کا یہ فلسفہ اس مذہب کی بنیاد تھا چنانچہ بودھ مت کے پجاری انسانی خواہشات سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ لوگ ستر ڈھانپنے کیلئے ان سلی چادریں استعمال کرتے ہیں‘ ننگے پاؤں رہتے ہیں یا پھر لکڑی کی چپلیں پہنتے ہیں‘ کھلے آسمان کے نیچے سخت زمین پر سوتے ہیں‘

مانگ کر کھاتے ہیں اور صرف اتنا کھاتے ہیں جس سے ان کی زندگی قائم رہ سکے۔ بودھ مت کے پجاری پوری زندگی عورت کو ہاتھ نہیں لگاتے‘ مہاتما بودھ نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں اپنے مریدوں کو ایک چھوٹا سا واقعہ سنایا تھا‘ان کا کہنا تھا ‘دو بھکشو کسی جنگل سے گزر رہے تھے‘ ان کے راستے میں ایک ندی آ گئی‘ یہ لوگ جب ندی عبور کرنے لگے تو انہوں نے وہاں ایک چھ سات سال کی بچی دیکھی‘ بچی بھی ندی پار کرنا چاہتی تھیلیکن ندی کا پانی تیز تھا لہٰذا وہ ڈر رہی تھی‘ ایک بھکشو کو بچی پر رحم آ گیا‘ اس نے بچی کو کندھے پر اٹھایا‘ ندی کے دوسرے ۔۔کنارے پرپہنچا اوراسے اتار کر سفر شروع کر دیا۔ چار پانچ میل کے سفر کے بعد اچانک دوسرے بھکشو نے سراٹھایا اور پہلے سے کہا ’’تمہارا دھرم برشٹ ہو چکا ہے‘‘ پہلے بھکشو نےپوچھا ’’ وہ کیسے؟‘‘ دوسرا بولا ’’تم نے نہ صرف ناری کوچھوا تھا بلکہ اسے کندھے پراٹھا کر ندی کے دوسرے کنارے پر بھی پہنچایا‘‘۔پہلے بھکشو نے حیرت سے پوچھا ’’میں نے یہ کام کب کیا تھا‘‘ دوسرے بھکشو نے جواب دیا ’’آج صبح‘‘ پہلے بھکشو نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ’’میں نے تواس بچی کو ندی کے کنار ے اتار دیا تھا‘‘ دوسرا بولا ’’لیکن وہ ابھی تک تمہارے ذہن پر سوار ہے‘‘۔ یہ واقعہ سنانے کے بعد گوتم بدھ نے اپنے پیروکاروں سے کہا ’’دوباتیں یاد رکھنا‘ غلامی جسم کی نہیں ہوتی دماغ کی ہوتی ہے

اور جب تک تم اپنے ذہن‘ اپنے دماغ کو خواہشات‘ توقعات اور آرزوؤں سے آزاد نہیں کرتے تم اس وقت تک حالات کے غلام رہو گے اور دوسراوقت ہمیشہ آگے کی طرف چلتا ہے‘ اگر تم وقت کے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو خواہشوں کی ناری کو ندی کے کنارے اتار کر بھول جاؤ اور سورج کی کرنوں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے چلے جاؤ تم اپنی مراد پا جاؤ گے‘‘۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…