جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

پاک فوج جب کسی جنگ میں دشمن کوئی اسلحہ چھینے تو اس اسلحے کی دھات کیساتھ کیا جاتا ہے ؟ایسا انکشاف جو آپ آج سے پہلے نہیں جانتے ہونگے

datetime 9  جنوری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پر کئی بار دشمنوں نے بری نظر ڈالی، ہمیں نیچا دکھانے کی کوشش کی مگر سب پر اچھے سے واضح ہو گیاکہ ہم وہ لوہے کا چنا ہیں جو آسانی سے کسی کا تر نوالہ نہیں بن سکتے ۔ حریت اور آزادی سےپیا ر ہمیں ہمارے خون میں ملا ہے ۔ کئی سو برس ہمارے ساتھ رہنے والی اور اکھنڈ بھارت کا نعرہ جپنے والی ہندو قوم جسے آج بھی پاکستان ہضم نہیں ہو سکا،

اس نے کئی بار پاکستان کی خود مختاری اور آزادی پر حملہ کرتے ہوئے ہماری پشت میں خنجر گھونپنے کی کوشش کی مگر شاید وہ جانتی نہیں تھی کہ افواج پاکستان ہر دم ہر آن چوکس رہتی ہیں ، نتیجہ سب کے سامنے تھا ۔انہیں منہ کی کھانی پڑی ۔ دشمن ملک کے ساتھ ہونے والی جنگوں میں وطن عزیز کے کچھ بہادر سپاہی تو ایسے بھی تھے جن کی بہادرری کو دشمن ملک نے بھی تسلیم کیا ۔ بہادری کے جوہر دکھانے والے ان سپوتوں کو حکومت پاکستان نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شجاعت سے منسوب پاکستان کے سب سے اعلیٰ اعزاز ’’نشان حیدر‘‘ سے نوازا ۔ نشان حیدر پانے والے اُ ن جری جوانوں کی تعداد اب تک 11ہے۔ یہ اعلیٰ ترین فوجی اعزازجنگوں کے دوران دشمن افواج سے چھینے گئے اسلحے کی دھات سے بنایا جاتا ہے۔ سب سے پہلا نشان حیدر ستائیس جولائی انیس سو اڑتالیس کو دشمن کے عزائم خاک میں ملانے والے کیپٹن محمد سرور شہید کو دیا گیا۔سات اگست انیس سو اٹھاون کو میجر طفیل مشرقی پاکستان میں جام شہادت نوش کر کے نشان حیدر کے حق دار قرار پائے۔1965کی جنگ میں میجر عزیز بھٹی نے دشمن کیخلاف داد شجاعت دیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر پایا۔جام شہادت نوش کرنے والے پاک فضائیہ کے پائلٹ افسر راشد منہاس، بری فوج کے میجر شبیر شریف، جوان سوار محمد حسین، میجر محمد اکرم اور لانس نائیک محمد محفوظ نے بہادری کی داستانیں رقم کیں اور نشان حیدرسے سرفراز ہوئے۔انیس سو ننانوے میں کارگل میں بہادری سے جان جان آفریں کے سپرد کرنے والے قوم کے سپوتوں شہید کیپٹن شیر خان اور حوالدار لالک جان کو نشان حیدر سے نوازا گیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…