2014ء کے آغاز میں صدرالدین ہاشوانی کی آپ بیتی’Truth Always Prevails‘کے نام سے منظر عام پر آئی جبکہ اسی برس نومبر میں اس کا اردو ترجمہ’سچ کا سفر‘ شائع ہوا۔ کتاب کا ناشر جمہوری پبلی کیشنز لاہور جبکہ اس کی قیمت 590روپے رکھی گئی ہے ۔’’بک شیلف‘‘اپنے قارئین کے لئے ’سچ کا سفر ‘ضرور پڑھنے کی پر زور سفارش کرتا ہے۔
مصنف صدرالدین کتاب بارے کہتے ہیں’’یہ کتاب(سچ کا سفر) محض میری کامیابیوں اور کاروباری فتوحات کی البم اور مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسے کاروبای شخص کی داستان حیات ہے جسے ایک کاروباری ادارہ قائم کرنے کے لئے بدعنوان سیاستدانوں‘آمر حکمرانوں اور حالات کے جبر کے خلاف سینہ سپر ہوناپڑا‘‘۔ مصنف کو کاروباری ادارہ قائم کرنے کے لئے کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا یہ تو قارئین کو کتاب پڑھنے سے ہی پتا چلے گا‘تاہم ذیل میں صدرالدین ہاشوانی کے کاروباری سفر کا مختصر احوال ان کی اپنی زبانی پڑھئے میری پیدائش قیام پاکستان سے سات برس قبل ہوئی‘میں والدین کا سب سے چھوٹا بیٹا اور اب باپ اور دادا بھی ہوں۔ میرے والد حسین ہاشوانی کا گھرانہ سات بچوں‘چا لڑکیوں اور تین لڑکوں پر مشتمل بڑا گھرانہ تھا۔میرا نمبر چھٹا تھا جس کے بعد میری چھوٹی بہن تھی۔ میری ماں زیور بائی نے مجھے اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرنے کی تربیت دی‘ میں آج بھی اپنے جوتے خود پالش کرتا ہوں‘ آئرن بورڈ پر کپڑے خود استری کرتا ہوں۔۔۔ کبھی کسی ہوٹل میں مجھے کوئی داغ کا دھبہ یا کاغذ کا ٹکڑا نظر آ جائے تو کسی کو آواز دے کر بلانے کے بجائے خود صفائی کر دیتا ہوں۔۔۔
1958ء میں ایس ایم کالج میں میرا آخری امتحان سر پر تھا‘ ماں مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتی تھی‘ ادب سے میرا لگاؤ نہ تھا یوں 100 میں سے11 نمبر حاصل کئے اور فیل ہوگیا۔اس دن زندگی میں پہلی بار ماں نے مجھے تھپڑ ماراتھا۔۔۔ ماں جانتی تھی کی والد کے کاروبار میں میرے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی کیوں میرا بڑا بھائی اکبر اسے بہترین انداز میں چلا رہا تھا۔ والدہ نے میرے مستقبل کا حل یہ سوچا کہ میری بڑی بہن ملک سلطان کے خاوند یعنی میرے بہنوئی شمس الدین جو کھانے پینے کا چھوٹا سا کاروبار کرتے تھے کی شاگردی میں دے دیا‘
وہ1958ء کا ہی ایک دن تھا جب میں شمس الدین کے پاس کام کرنے گیا‘کام پر میرا پہلا دن میرے لڑکپن کا آخری دن تھا۔ بعض اوقات میں خود بھی اناج کی بوریاں اٹھاتا‘ تاکہ دوسروں کی حوصلہ افزائی ہو اور کام تیزی سے جاری رہے ۔ کشتیوں میں اناج کی نقل و حمل کے دوران ہمارے پاجامے اور ٹانگیں پانی میں گیلی ہو جاتیں۔مجھے یہ تجربہ خوشگوارمحسوس نہ ہوتا لیکن کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی طرح یہ تلخ تجربہ مجھے اپنے ہی وجود میں سے ’’کام کا آدمی‘‘ دریافت کرنے میں مدد دیتا۔ایک رات میں ٹرک کے عقبی حصے میں بیٹھا گوادر سے تربت کی طرف سفر کر رہا تھا کہ اچانک دھچکے کے ساتھ ٹرک رک گیا۔
کوئی پرزہ ٹوٹ گیا تھا مرمت کرنے والے آلات اور فاضل پرزہ جات سے محروم ڈرائیور حوصلہ ہار گیا اور رات صحرا میں ہی کاٹنے کا اعلان کر دیا۔ میں اس قدر تھکا ہوا تھا کچھ کہنے کی ہمت بھی نہ تھی۔ قیمتی دستاویزات والا ٹرنک پاؤں تلے رکھا اور ریت پر لیٹ گیا‘ سر پر نیلے آسمان کی چادر تنی تھی۔۔۔صبح بیدار ہوا تو صحرائی کیڑوں کے کاٹنے سے میرا منہ سرخ ہو چکا تھا۔۔۔ میں دن رات کام کر رہا تھا‘ یہ میری والدہ اور کالج دوستوں کے لئے انتہائی حیران کن تھا جو مجھے کرکٹ اور غیر نصابی سرگرمیوں میں دلچسپی کے باعث جانتے تھے۔
اپنے دفتر میں اکاؤنٹنٹ‘ڈاک بھیجنے والا‘منیجر‘ چپڑاسی‘ عمومی نگران سب کچھ ہی میں تھا۔۔۔بہر حال خوشی اس بات کی تھی کہ سدرن کمرشل کارپوریشن (بھائی علی حسن کی حصہ داری میرے حصے آئی )تیزی سے ترقی کر رہی تھی۔۔۔ شمش الدین(بہنوئی) کو اس سے کوئی سروکار نہ تھا لیکن میں آگے بڑھنا چاہتا تھا۔۔۔وزارت خوراک و زراعت کراچی بندرگاہ سے جو گندم بر آمد کرتی‘ میں نے اس کے بحری جہازوں پر سامان لادنے ‘ اتارنے‘ اور کلیئر کروانے کے معاہدوں پر دستخط کر دیئے۔1959ء میں پہلے بحری جہاز کے معاملات طے کئے۔ اس بحری جہاز کا نام ہیلینک گلوری تھاجو800ٹن گندم لیکر آیاتھا۔
ایک نیا جذبہ لیکر مجھے اپنی لغت سے ناکامی کا لفظ نکالنا پڑاجس کے لئے میں نے اور محنت شروع کر دی۔میرے ساتھی اور میرے ہم عصر’ایس سی سی‘کو ون مین شو پکارنے لگے۔شمش الدین کام تو بہت کم کرتے تھے لیکن شراکت کے مطابق انہیں آدھا حصہ مل جاتا تھا‘یہی نہیں بلکہ ان کے کلب اور سماجی زندگی کے اخراجات ادا کرنے کے لئے بھی مجھے کافی کچھ کمانا پڑتا تھا۔1961ء کی ایک صبح میں دفتر جانے لگا تو میری والدہ نے کہا کہ ایک ضروری بات کرنی ہے۔ والدہ نے مجھے بتایا کہ میری بہن ملک سلطان گھر آئیں تھیں اور انہوں نے شکایت کی ہے کہ میں نے’’ایس سی سی‘‘ کی تجوری سے پانچ ہزار روپے چوری کر لئے ہیں۔ شمش الدین نے میری بہن کو بتایاکہ راتوں رات دفتر سے پانچ ہزار روپے چوری ہو گئے ظاہر ہے بطور کیشئر بھی رقم کی دیکھ بھال میری ذمہ داری تھی یوں کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میں بے ایمان ہوں اور غبن کر رہا ہوں۔
ظاہر ہے کہ یہ ایک سفید جھوٹ تھا‘ مجھے انتہائی صدمہ ہوا‘ میری والدہ نے میری وضاحت بھی طلب نہ کی‘ان کا کہنا تھا اگر میں معاملہ آگے بڑھاؤں گا تو بہن کے لئے مسئلہ پیدا ہوگا۔وہ میرا’’ایس سی سی‘‘ میں آخری دن تھا‘منافع سے حصہ وصول کرنا تو درکنار میں نے اپنا اصل سرمایہ بھی طلب نہ کیا۔ اور پھر شمس الدین چند ہی برس میں دیوالیہ ہو گئے۔شمس الدین کے ہاتھوں نقصان اٹھانے کے بعد اوراب نئے کاروبار کیلئے رقم ہاتھ میں نہ ہونے کے باعث مجھے سب کچھ دوبارہ شروع کرنا تھا۔مجھے سٹیل کارپوریشن آف پاکستان کے ساتھ بطور سیلز ایجنٹ کام کرنے کا موقع ملا‘ میر اکام کپاس کی گانٹھیں باندھنے کے لئے استعمال ہونے والی سٹیل کی پتریاں فروخت کرنا تھا۔بطور سیلز ایجنٹ میرا کاروبار آئندہ تین چار برس میں فروغ پاتا گیا۔سٹیل کی پتریوں کے علاوہ اسٹیل کی دیگر مصنوعات اور شوگر ملوں کے پرزے بھی فروخت کرنا شروع کر دیئے‘
مجھے اس کام میں مہارت حاصل ہو چکی تھی۔حسن علی اینڈ کمپنی (حسن علی میرے پیارے بھائی تھے جو 42برس کی عمر میں وفات پا گئے) جو اب میرا اصل کاروبار تھا‘اس نے 1965ء میں ایک بہت بڑا برآمدی سودا حاصل کیا اور سوویت یونین کو500ٹن روئی برآمد کی۔روئی کی برآمدی منڈی میرے لئے سونے کی کان ثابت ہوئی۔میں صبح آٹھ بجے سے رات گئے تک دفتر میں رہتا‘شام کے اوقات میں روئی جہازوں پر لوڈ ہوتے دیکھنے چلا جاتا۔1968میں والدہ انتہائی بیمار ہو گئیں‘بولی دنیا چھوڑنے سے پہلے تمہاری شادی دیکھنا چاہتی ہوں(ہمارے پانچ بچے ہوئے لیکن 2011ء میں ہمارے درمیان علیحدگی ہو گئی)۔1970ء میں پاکستان کا روئی کا سب سے بڑا برآمد کندہ بن گیا اور میری عر فیت ’’کپاس کا بادشاہ‘‘بن چکی تھی۔1973ء میں کپاس اور چاول کی تجارت کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔اب اصل مسئلہ یہ تھا کہ آگے کس آئیڈیئے پر کام کیا جائے۔
کچھ عرصہ سے میں ایک ہوٹل کے قیام کا سوچ رہا تھا۔ میں نے اچھے حالات کی امید میں پاکستان میں مزید سرمایہ کاری شروع کر دی۔ مجھے ہوٹل کی تعمیر کیلئے اجازت درکار تھی۔ بھٹو حکومت نے عجیب و غریب شرط عائد کر دی‘مجھے کراچی میں ہوٹل کی تعمیر کی اجازت اس صورت میں دی گئی کہ میں اسلام آباد میں بھی ہو ٹل تعمیر کروں‘ جس کے لئے بہت زیادہ سرمایہ درکار تھا۔1974 میں ’ہالیڈے ان‘انتظامیہ کو خط لکھا کہ میں ان کا ایک ہوٹل خریدناچاہتا ہوں۔ انہو ں نے مجھے ہانگ کانگ بلا لیا۔بیس ماہ کی مدت میں ہالیڈے ان تیار تھا‘ہوٹل کا پہلا مرحلہ1978 میں کھول دیا گیا‘اب یہ ہوٹل میریٹ اسلام آباد ہے۔دونوں ہوٹل مکمل ہونے تک میرے قرض 3 ملین ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔کراچی’ ہالیڈے ان ‘کا افتتاح21مارچ1981ء کو میری والدہ نے کیا۔
ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے!میں ہوٹل تعمیر کرنے اور میزبانی و مہمانداری کے حوالے سے پاکستان کی ساکھ بہتربنانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔اور ایک آمرانہ حکومت میرے پیارے پاکستان کو میرے لئے نامہربان بنانے پر تلی ہوئی تھی۔1985ء میں ضیاء انتظامیہ کے خلاف بے چینی و اضطراب کا سلسلہ شروع ہوا اورجلد ہی عروج پر پہنچ گیا۔ جوں جوں ضیاء الحق اور اس کے حاشیہ نشیں میری مخالفت میں کمر بستہ ہو کر مجھے ہراساں کر رہے تھے ‘توں توں میرا کاروبار مسلسل ترقی کر رہا تھا۔ میں نے’پی ایس ایل‘ کمپنی کے انٹر کانٹی نینٹل کی چین بھی خرید لی‘اب میں آبائی شہر کراچی میں دو ہوٹلوں سمیت چھے ہوٹلوں کا مالک بن چکا تھا۔انٹر کانٹی نینٹل کو خدا حافظ کہنے اور پرل کانٹی نینٹل یا پی سی کو خوش آمدید کہنے کی تقریب!ہمارے ہوٹلوں کے مستقل گاہکوں نے نہایت محبت کے عالم میں اسے مختصر نام ’پی سی‘ دیا۔۔۔
جو اپنی منزل کی جانب گامزن ہو چکا تھا۔آہستہ آہستہ ہم نے منافع کمانا شروع کر دیا۔ 300 کمروں پر مشتمل کراچی ہوٹل ان سب ہوٹلوں میں سب سے بڑا تھا جو ہم نے خریدے تھے۔لاہور اور راول پنڈی کے ہوٹلوں میں دو دو سو کمرے تھے جبکہ پرل کانٹی نینٹل پشاورکاآغاز150کمروں سے ہوا۔دونوں میریٹ ہوٹلز کے علاوہ چاروں پرل کانٹی نینٹل(جو اب ایک دجن کے قریب ہیں) بہت جلد مشہور ہو گئے۔ 1980ء کی دہائی کے آخر کاوقت تھا جب ہم نے بھوربن کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پرل کانٹی نینٹل لاہور کی وسعت کے منصوبے پر بھی کام کا آغاز کیا۔لاہور کی نئی شاخ1997ء میں کھل گئی۔ بھوربن کے بعدآزاد جموں کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ہوٹل بنانے کا منصوبہ بھی اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف تھا۔ہوٹل کا ایک شعبہ2007ء میں کھول دیا گیااور2011ء میں اس نے بھرپور کام شروع کر دیا۔
1989ء میں بذات خود تین ماہ کیلئے ہوسٹن منتقل ہو گیا اور حیات ریجنسی ہوٹل 40ملین ڈالرز میں خرید لیا‘جس کی تزئین و آرائش پر17ملین ڈالرز خرچ آئے۔پھر ہم نے فلوریڈا کے شہر بوکا راٹن میں ایک ہوٹل خریدا۔ ان ہوٹلوں کی از سرنو بحالی کے بعد انہیں بحال کر دیا۔امریکا میں ہوٹل کا میرا آخری سودا اورلینڈو فلوریڈا میں تھا۔جسے بہتر حالت میں لا کر فروخت کر دیا۔میرا سب سے اہم اور مرکزی منصوبہ وہ ہوٹل ہے جو میں نے گوادر میں تعمیر کروایا۔اسے2003ء میں صدر مشرف کے ایماء پر تعمیر کیا گیا۔ جس کا افتتاح2006ء میں صدر مشرف نے ہی کیا۔2013ء میں ہم نے پاکستان میں ہوٹلوں کے تین نئے منصوبوں پر کام شروع کیا۔پہلا حیات آباد پشاور کے ایک جدید مضافاتی علاقے میں پرل کانٹی نینٹل کا منصوبہ ہے۔دوسرا ہوٹل میر پور میں ہے جہاں حکومت آزاد کشمیر نے ہمیں ایک تفریح گاہ تعمیر کرنے کی اجازت دی ہے۔آخر میں ملتان میں ایک پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کا اولوالعزم منصوبہ ہے۔ میں نے ہوٹلنگ کی صنعت میں قدم رکھنے کا آغاز1980ء کی دہائی میں کیا اور چاہتا ہوں کہ2020ء تک اس سلسلے کو آگے بڑھاؤں۔۔۔



















































