بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستانی تاریخ کا حیران کن واقعہ ! مرحومہ بے نظیر بھٹو اپنی شادی والے دن دلہن کے لباس میں کیا کام کرتی رہیں ؟جان کر یقیناً آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

datetime 15  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ کوئی پاکستانی سیاستدان ایسا گزرا ہے کہ جس نے اپنی شادی کی تقریب کو جلسے میں بدل کر خطاب شروع کر دیا ہو۔ اگر نہیں تو ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ بینظیر بھٹو شہید ایسی خاتون سیاستدان تھیں جن کی شادی میں نہ صرف پاکستانی عوام نے شرکت کی بلکہ بینظیر بھٹو دلہن کے مخصوص انداز میں شرمانے ، لجھانے کے بجائے

تقریب میں شریک عوام کے پرجوش نعروں کا ہاتھ اٹھا اٹھا کر جواب دیتی رہیں۔ 1987 میں بے نظیر بھٹو کی شادی پر رونما ہوئی جب انہوں نے شادی کے دن دور دراز سے آئی ہوئی اپنی عوام کے سامنے سٹیج پر جئے بھٹو کے نعرے بھی لگائے اور اپنا نکاح بھی عوام کی موجودگی میں پڑھوانے پر زور دیا تھا . بے نظیر بھٹو کی شادی کی اس عوامی تقریب نے انکے انتخابات اور مقبولیت پر بہت مثبت اثر ڈالا تھا .بے نظیر بھٹو کی شادی کئی حوالوں سے یادگار تھی.انہوں نے سلک کا کڑھائی دار سوٹ پہنا تھا جبکہ آصف علی زرداری نے بلوچوں کے روائتی لباس میں موجود تھے.بے نظیر بھٹو نے نے اپنی شادی کو یادگار بنانے کے لئے کسی بھی ہوٹل میں تقریب کرنے سے انکار کردیا تھا بلکہ شادی کو یادگار بنانے کے لئے انہوں نے پیپلز پارٹی کے گڑھ لیاری میں نکاح کا جلسہ کرڈالا تھا .یہ پاکستان کی تاریخ کی انوکھی شادی تھی جب مستقبل کی وزیر اعظم منتخب ہونے والی سیاستدان خاتون نے نکاح کی تقریب بھی اپنی عوام کے درمیان منائی . اس کے لئے بے نظیر بھٹو نے ہر طرح کے دعوتی کارڈ چھپوانے سے انکار کردیا تھا .انہیں مخصوص دوستوں کو مدعو کرکے شادی کی تقریب کرنے کا مشورہ دیا جاتا رہا جو انہوں نے رد کردیاتھا.جب وہ لیاری میں اپنی شادی کے پنڈال میں پہنچیں تو دوردراز سے آئے مہمانوں نے دیوانہ وار جئے بھٹو کے نعرے لگائے اور بے نظیر دلہن

کی طرح شرمانے لجھانے کی بجائے مسکراتی ہوئیں اسٹیج پر چکر لگا کر عوام کے نعروں کا جواب دینے لگیں.اس موقع پر انہوں نے پیپلز پارٹی کی ایک جیالی خاتون کو سینے سے لگا کر اپنے ساتھ کرسی کے پاس بیٹھا لیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…