بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

کبھی قرآن مجید کا کوئی معجزہ دیکھاہے؟

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ایک مرتبہ کسی نے قاری عبدالباسط سے پوچھا، قاری صاحب! آپ اتنا مزے کا قرآن مجید پڑھتے ہیں، آپ نے بھی کبھی قرآن مجید کا کوئی معجزہ دیکھاہے ؟ وہ کہنے لگے،  میں نے قرآن کے سینکڑوں معجزے آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ انہوں نے کہا ، کوئی ایک تو سنا دیجئے۔ تو یہ واقعہ انہوں نے خود سنایا۔قاری صاحب فرمانے لگے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب جمال عبدالناصر مصر کا صدر تھا۔

اس نے رشیا (روس) کا سرکاری دورہ کیا۔ وہاں پر کمیونسٹ حکومت تھی۔ اس وقت کمیونزم کا طوطی بولتا تھا۔ دنیا اس سرخ انقلاب سے گھبراتی تھی۔جمال عبدالناصر ماسکو پہنچا۔ اس نے وہاں جاکر اپنے ملکی امور کے بارے میں کچھ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے بعد انہوں نے تھوڑا سا وقت تبادلہ خیالات کے لئے رکھا ہوا تھا۔ اس وقت وہ آپس میں گپیں مارنے کے لئے بیٹھ گئے۔ جب آپس میں گپیں مارنے لگے تو ان کیمونسٹوں نے کہا ،جمال عبدالناصر! تم کیا مسلمان بنے پھرتے ہو، تم ہماری سرخ کتاب کو سنبھالو، جو کیمونزم کا بنیادی ماخذ تھا، تم بھی کمیونسٹ بن جاؤ، ہم تمہارے ملک میں ٹیکنالوجی کو روشناس کرادیں گے، تمہارے ملک میں سائنسی ترقی بہت زیادہ ہو جائے گی اور تم دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہو جاؤ گے، اسلام کو چھوڑو اور کیمونزم اپنالو، جمال عبدالناصر نے انہیں اس کا جواب دیا تو سہی مگر دل کو تسلی نہ ہوئی۔ اتنے میں وقت ختم ہوگیا اور واپس آگیا۔ مگردل میں کسک باقی رہ گئی کہ نہیں مجھے اسلام کی حقانیت کو اور بھی زیادہ واضح کرنا چاہئے تھا، جتنا مجھ پر حق بنتا تھا میں اتنا نہیں کرسکا۔دو سال کے بعد جمال عبدالناصر کو ایک مرتبہ پھر رشیا جانے کا موقع ملا۔ قاری صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے صدر کی طرف سے لیٹر ملا کہ آپ کو تیاری کرنی ہے اور میرے ساتھ ماسکوجانا ہے۔ کہنے لگے کہ میں بڑا حیران ہوا کہ قاری عبدالباسط کی تو ضرورت پڑے

سعودی عرب میں، عرب امارات میں، پاکستان میں جہاں مسلمان بستے ہیں۔ ماسکو اور رشیا جہاں خدا بے زار لوگ موجود ہیں، دین بے زار لوگ موجود ہیں وہاں قاری عبدالباسط کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ خیر تیاری کی اور میں صدر صاحب کے ہمراہ وہاں پہنچا۔وہاں انہوں نے اپنی میٹنگ مکمل کی۔ اس کے بعد تھوڑا سا وقت تبادلہ خیالات کے لئے رکھا ہوا تھا۔ فرمانے لگے کہ اس مرتبہ جمال عبدالناصر نے ہمت سے کام لیا اور ان سے کہا کہ یہ میرے ساتھی ہیں جو آپ کے سامنے کچھ پڑھیں گے،

آپ سنئے گا۔ وہ سمجھ نہ پائے کہ یہ کیا پڑھے گا۔ وہ پوچھنے لگے کہ یہ کیا پڑھے گا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ قرآن پڑھے گا۔ انہوں نے کہا ، اچھا پڑھے۔ فرمانے لگے کہ مجھے اشارہ ملا اور میں نے پڑھنا شروع کیا۔ سورہ طہٰ کا وہ رکوع پڑھنا شروع کردیا جسے سن کر کسی دور میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی ایمان لے آئے تھے۔فرماتے ہیں کہ میں نے جب دو رکوع تلاوت کرکے آنکھ کھولی تو میں نے قرآن کا معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ سامنے بیٹھے ہوئے

کمیونسٹوں میں سے چار یا پانچ آدمی آنسوؤں سے رو رہے تھے۔ جمال عبدالناصر نے پوچھا ، جناب !آپ رو کیوں رہے ہیں؟ وہ کہنے لگے ہم تو کچھ نہیں سمجھے کہ آپ کے ساتھی نہ کیا پڑھا ہے مگر پتہ نہیں کہ اس کلام میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ ہمارے دل موم ہوگئے ، آنکھو ں سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگ گئیں، اور ہم کچھ بتا نہیں سکتے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا۔۔۔؟ سبحان اللہ جو قرآن کو مانتے نہیں ، قرآن کو جانتے نہیں اگر وہ بھی قرآن سنتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں بھی تاثیر پیدا کردیا کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…