منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

تم مٹی سے لیا گیا قرض ہو

datetime 25  اکتوبر‬‮  2017 |

کہتے ہیں کہ ایک شخص کو موت سے بہت ڈر لگتا تھا۔ دن رات اسی خوف میں گھلتا رہتا تھا کہ وہ مر جائے گا۔ وہ نہ زندگی سے لطف اٹھا سکتا تھا اور نہ ہی سکون سے کھا پی سکتا تھا نہ لوگوں سے ہنس بول سکتا تھا۔ اس کی حالت ایسی بری ہوئی تو اس کے یار دوست مل کر صلاح مشورہ کرنے لگے کہ اس کا کیا کیا جائے۔ ایک نے صلاح دی کہ یہ مینٹل ہو چکا ہے، اس لیے اسے پاگل خانے بھجوا دیا جائے۔ سب نے یہ رائے مسترد کر دی کہ پاگل خانے والے ایسا پیس پا کر کہیں خود بھی پاگل نہ ہو جائیں۔

دوسرا دوست چرسی تھا جو اپنے سارے غم دھویں میں اڑانے کا قائل تھا۔ اس نے مشورہ دیا کہ اسے پکے سوٹے پر لگا دیا جائے تو وہ بھی چرسی کی طرح خوش باش ہو جائے گا۔ جب بھی غم ستائے گا، ایک گہرا کش ہی غم کو اڑا دے گا۔ سب نے اس مشورے کو بھی اچھا نہ جانا کہ پھر وہ ہر ایک سے نشے کے لیے پیسے مانگتا پھرے گا اور تھانے میں اس کی ضمانتیں بھر بھر کر سب تنگ پڑ جائیں گے۔ تیسرے نے مشورہ دیا کہ اسے روحانیت کا راستہ دکھایا جائے کیونکہ یہ روحانی مرض ہے اور اس کا روحانی علاج ہی شفا دے گا۔ اس پر سب متفق ہوئے اور اسے لے کر ایک صوفی صاحب کے پاس پہنچے۔ صوفی صاحب نے پوچھا کہ ’’بچہ، بتا کہ تجھے کیا پریشانی ہے؟‘‘۔ شخص: صوفی صاحب، مجھے موت سے بہت خوف آتا ہے۔ سوچتا ہوں کہ ابھی کھڑے کھڑے گروں گا اور مر جاؤں گا یا بہت کامیاب زندگی بھی گزار لی تو سب کچھ یہیں پڑا رہ جائے گا اور میں قبر میں تنہا پڑا ہوں گا۔ صوفی: میرے بچے، ایک بات بتاؤ۔ اگر تم کسی سے چند روپے قرض لیتے ہو، تو کیا وہ قرض واپس کرنے سے ڈرتے ہو؟ شخص: بالکل بھی نہیں۔ قرض تو لیا ہی اس لیے جاتا ہے کہ واپس کیا جائے لیکن اس بات کا موت سے کیا تعلق ہے؟۔ صوفی نے زمین سے مٹھی بھر خاک اٹھائی اور کہنے لگا کہ ’’تم اس خاک سے اٹھے ہو اور خاک کو یہ قرض ایک دن واپس ہونا ہی ہے۔

تمہارا ہر لقمہ، تمہارا ہر گھونٹ، خاک کے اس قرض میں اضافہ کر رہا ہے، یہ خوب جان لو کہ جس مٹی پر تم چلتے پھرتے ہو، تم اسی سے لیا ہوا ایک قرض ہو اور اس مٹی پر رکھا ہوا تمہارا ہر قدم تمہیں اس بات کی یاد دلاتا ہے۔ یہ مٹی تمہیں اپنی طرف کھینچتی ہے۔ آخر کار یہی مٹی تمہیں نگل جائے گی اور تمہاری کوئی نشانی باقی نہیں رہے گی۔‘‘ یہ کہہ کر صوفی صاحب نے مٹھی میں بھری ہوئی مٹی اونچی اچھال دی اور کہنے لگے کہ ’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ تم زندگی میں کتنا اونچا اٹھ جاتے ہو۔

اس مٹھی بھر مٹی ہی کی مانند تم واپس زمین کی طرف پلٹو گے۔ موت کے اس خوف سے نجات پانا نہایت آسان ہے۔ اپنی زندگی کو تحفہ خداوندی سمجھو۔ اپنے جسم کو اپنی ملکیت سمجھنا چھوڑ دو۔ بس یہی سمجھو کہ یہ جسم تمہیں ادھار ملا ہے اور تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ کتنی مدت کے بعد تم نے اس ادھار کے جسم کو لوٹانا ہے۔ سو ادھار واپس کرنے پر کس چیز کا خوف ہے؟ خدا کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں اتنی خوبصورت چیز استعمال کے لیے دی ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کی ہے۔ سو خوف مت کرو، خدا کا شکر ادا کرو۔‘‘ وہ شخص اس بارے میں جتنا سوچتا، اتنا ہی خدا کا شکرگزار ہوتا اور اس طرح اس نے موت کے خوف سے نجات پا لی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…