منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

دریا کل جاری ہو جائے گا

datetime 17  اکتوبر‬‮  2017 |

خدا ایسوں کی بھی سنتا ہے:صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ فرعون کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہا کہ بارش نہیں ہو رہی ہے اور دریائے نیل بند ہے، آپ جاری کرا دیجئے، اس لیے کہ آپ کو ہم نے معبود بنایا ہے۔ اس نے کہا اچھی بات ہے، دریا کل جاری ہو جائے گا رات کے وقت اٹھاتاج شاہی پہنااور پہنچا ’’نیل‘‘ میں یا ’’قلزم‘‘ میں۔ دریا خشک تھا، تاج زمین پر رکھا اور مٹی لی، سر پر ڈالی ،

اس نے کہا اے احکم الحاکمین! اے رب العالمین! میں جانتا ہوں کہ آپ ہی مالک ہیں، آپ ہی سب کچھ ہیں، میں نے ایک دعویٰ کیا اور وہ بھی غلط، آج تک آپ نے اس دعوے کو نبھایا اور ظاہر کے اعتبار سے مجھے ویسا ہی رکھا، میں آپ سے دعا کرتا ہوں کہ آج بھی میری بات رہ جائے، خوب گڑگڑا کر دعا کی، وہ خدا ایسوں کی بھی سنتا ہے۔ بہرحال فرعون نے رو کر گڑگڑا کر عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا مانگی۔ دعا کا مانگنا تھا کہ پانی آنا شروع ہوا، سرسراہٹ محسوس ہوئی، فوراً تاج لیا اور چلا آیا اور دریائے نیل جاری ہو گیا۔ایک مرتبہ حضرت علیؓ کی خدمت میں ایک سائل حاضر ہوا۔آپؓ نے اپنے صاحبزادہ حضرت حسنؓ سے فرمایا کہ اپنی والدہ (حضرت فاطمہؓ) سے کہو کہ میں نے جو چھ درہم تمہارے پاس رکھے ہیں، ان میں ایک درہم دے دو۔ صاحبزادے گئے اور جواب لائے کہ وہ آپ نے آٹے کے واسطے رکھوائے تھے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ آدمی اپنے ایمان میں اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک کہ اپنے پاس کی موجودہ چیز سے اس چیز پر زیادہ اعتماد نہ ہو جو اللہ کے پاس ہے، اپنی والدہ سے کہو کہ وہ چھ درہم سب کے سب دے دو۔ حضرت فاطمہؓ نے تو یاد دہانی کے طور پر فرمایا تھا، ان کو اس میں کیا تامل ہو سکتاتھا،

اس لیے حضرت فاطمہؓ نے دے دیے۔ حضرت علیؓ نے وہ سب سائل کو دے دئیے۔ حضرت علیؓ اپنی اپنی اس جگہ سے اٹھے بھی نہیں تھے کہ ایک شخص اونٹ فروخت کرتا ہوا آیا۔ آپؓ نے اس کی قیمت پوچھی، اس نے ایک سو چالیس درہم بتائے۔ آپ نے وہ اونٹ خرید لیا اور قیمت کی ادائیگی کا بعد وعدہ کر لیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور شخص آیا، اور اونٹ کو دیکھ کرپوچھنے لگا یہ کس کا ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میرا ہے۔

اس نے دریافت کیا کہ فروخت کرتے ہو۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ہاں، اس نے قیمت دریافت کی۔ حضرت علیؓ نے دو سو درہم بتائے وہ خرید کر لے گیا۔حضرت علیؓ نے ایک سو چالیس درہم اپنے قرض خواہ یعنی پہلے مالک کو دے کر ساٹھ درہم حضرت فاطمۃ الزہراؓ کو لا کر دیے۔ حضرت فاطمہؓ نے پوچھا کہ یہ کہاں سے آئے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریمؐ کے واسطے سے وعدہ فرمایا ہے کہ جو شخص نیکی کرتا ہے اس کو دس گنا بدلہ ملتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…