مادیت پرسی کے اس دور میں کسے ہوش ہے کہ کسی بے کس اور مجبور کی مددکے بارے میں سوچے، جسے دیکھو اپنے پیٹ کی فکر میں مگن نظر آتا ہے لیکن اسے غربا و مساکین کیلئے قدرت کا تحفہ کہئے کہ اس دور میں بھی لاہور کے میٹ ایکس ریسٹورنٹ جیسی خوبصورت
مثالیں موجود ہیں، جہاں کھانا کھانے کیلئے ضروری نہیں کہ جیب میں رقم بھی ہو۔ خالی جیب والے بھی یہاں مالداروں کی طرح باعزت طریقے سے بیٹھ کر لذیذ کھانے سے سیر ہوتے ہیں اور کوئی ان سے بل کا تقاضہ نہیں کرتا۔ مختصراََ کہیں تو یہ ریسٹورنٹ نیکی اور انسان دوستی کی ایک حیرتناک مثال ہے۔ اس ریسٹورنٹ میں نمایاں جگہ پر لگے ایک بورڈ پر یہ الفاظ تحریرہیں، اگر کسی شخص کے پاس پیسے نہیں ہیں تو ہمارا للہ تعالیٰ کے ساتھ کھاتہ چلتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے کھاتے میں کھانا کھا سکتا ہے۔ یہ ریسٹورنٹ گزشتہ دو سال سے ضرورت مند لوگوں کو مفت کھانے کی سہولت مہیا کر رہا ہے۔ ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ صرف اضافی کھانا ہی ضرورت مندوں میں تقسیم نہیں کرتے بلکہ رقم ادا کر کے کھانا کھانے والوں کی طرح کوئی بھی ضرورت مند شخص بغیر ایک روپیہ بھی دئیے یہاں سے کسی بھی وقت کھانا کھا سکتا ہے۔ اس ریسٹورنٹ سے ذہنی مریضوں کی علاج گاہ فائونٹین ہائوس کیلئے بھی مفت کھانا جاتا ہے۔ فائونٹین ہائوس کے مریض صرف مفت کھانے کی سہولت سے ہی لطف اندوز نہیں ہوتے بلکہ ریسٹورنٹ انہیں کھانا بنانے اور باربی کیو کی سرگرمیوں میں بھی شامل کرتا ہے تاکہ ان کی دلجوئی ہو جائے۔ ریسٹورنٹ کی انتظامیہ اس نیک کام کو صرف جاری ہی نہیں رکھنا چاہتی بلکہ اسے وسعت دینے کیلئے بھی پر عزم ہے۔





















































