پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

ماچس کیسے ایجاد ہوئی ؟

datetime 20  جون‬‮  2017 |

انسان ہزاروں برس سے زیادہ عرصے سے آگ سے کھیلتا آ رہا ہے لیکن کوئی بھی ایسی چیز ایجاد نہیں کر سکا تھا جس کے ذریعے آسانی سے آگ جلائی جا سکے۔ آخر ایک برطانوی ادویات ساز نے ماچس ایجاد کر لی۔ یہ 1826ء کا واقعہ ہے۔ جان واکر چند کیمیائی مادوں کو ایک برتن میں ایک تیلی کے ذریعے آپس میں ملا رہے تھے۔

انہوں نے دیکھا کہ تیلی کے سرے پر ایک سوکھا ہوا گولا سا بن گیا ہے۔ انہوں نے غیر ارادی طور سے تیلی کے سرے کو رگڑ کر سوکھا ہوا مادہ اتارنے کی کوشش کی تو ایک دم آگ جل اٹھی۔ اس طرح بالکل اتفاقاً ماچس ایجاد ہو گئی۔ جان واکر نے پہلی ماچس اپنے علاقے میں کتابوں کی ایک دکان میں بیچی۔انہوں نے اس ماچس کا نام ’’فرکشن لائٹس‘‘ رکھا تھا۔ تِیلیاں تین اینچ لمبی تھیں۔ ڈبیا کی ایک طرف ریگ مال لگا ہوا تھا جس پر تیلیوں کو رگڑ کر جلایا جاتا تھا۔ جان واکر کو اپنی ایجاد پیٹینٹ کروانے سے دل چسپی نہیں تھی۔ سیموئل جونز نے ماچس کی نقل بنائی۔ انہوں نے اپنی ماچس کا نام ’’لوسی فر‘‘ رکھا۔ ان کی ماچس کی تیلیاں چھوٹی تھیں۔ ان کی ڈبیا بھی چھوٹی تھی جسے ساتھ رکھنا آسان تھا۔ تاریخ میں ماچس جیسی کسی چیز کا پہلا تذکرہ چین میں لکھی گی ایک کتاب میں ملتا ہے۔ اس کتاب کا عنوان ’’غیردنیاوی اور انوکھی چیزوں کا تذکرہ‘‘ تھا اور اسے تاؤ گو نے لکھا تھا۔ یہ کتاب اندازاً 950ء میں لکھی گئی تھی۔ آگ جلانے کے لیے سلفر استعمال کیا جاتا تھا لیکن ان تیلیوں کو رگڑ کر آگ نہیں جلائی جا سکتی تھی۔ فرانسیسی کیمیا داں ژاں چینسل نے 1805ء میں پہلی ایسی ماچس ایجاد کی جس کی تیلیوں کے سرے پر چینی اور پوٹاشیم کلوریٹ لگایا جاتا تھا۔ اس سرے کو مرتکز سلفیورک تیزاب میں ڈبو کر جلایا جاتا تھا۔ ژاں چینسل کی بنائی ہوئی ماچس کی تیلیاں جلانا خطرناک تھا۔ کیمیائی مادوں کا آمیزہ کلورین ڈائی آکسائیڈ نامی پیلے رنگ کی بدبودار گیس پیدا کرتا تھا، جو کسی بھی چیز سے چھونے پر بھک کر کے پھٹ جاتی تھی۔

آج کل ماچسیں سرخ فاسفورس سے بنائیں جاتی ہیں۔سرخ فاسفورس زہریلی نہیں ہوتی۔ اسے جوہان ایڈورڈ لنڈسٹروم نے دریافت کیا تھا۔ امریکہ میں سیفٹی ماچس فرخت کرنے والی پہلی کمپنی ڈائمنڈ میچ کمپنی تھی۔ اس سے حقوق خرید کر دوسری ماچس ساز کمپنیوں نے ماچسیں بنانا اور بیچنا شروع کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…