حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ ایک عجیب بات لکھتے ہیں کہ جس انسان کی زندگی پاک دامنی کی زندگی ہو گی اللہ رب العزت اس انسان کی دعاؤں کو کبھی رد نہیں فرمایا کرتے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک واقعہ نقل کیا۔ فرماتے ہیں کہ دہلی میں ایک مرتبہ قحط پڑا۔ بارش نہیں ہوتی تھی۔ لوگ پریشان، جانور پریشان، چرند و پرند پریشان۔ نہ سبزہ ہے نہ پانی تھا۔ ہر طرف خشکی ہی خشکی نظر آتی تھی۔
اس پریشانی کے عالم میں لوگ علماءکی خدمت میں آئے کہ آپ ہمارے لیے کوئی دعا کیجئے۔ انہوں نے نماز استسقاء کے لیے سب لوگوں کو بلایا۔ چھوٹے، بڑے، مرد و عورت سب اکٹھے ہوگئے۔ انہوں نے نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں مانگتے دن گزر گیا۔ مگر قبولیت کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہو رہے تھے۔ جب عصر کا وقت ہوا تو دیکھا کہ ایک سواری پر کوئی سوار ہے اور ایک نوجوان آدمی اس سواری کی نکیل پکڑ کر جا رہا ہے۔ وہ قریب سے گزرا تو رکا۔ اس نے آ کر پوچھا کہ لوگ کیوں جمع ہیں؟ بتایا گیا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت کی دعا مانگ رہے ہیں مگر قبولیت کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہو رہے۔ وہ کہنے لگا، اچھا میں دعا مانگتا ہوں۔ وہ آدمی سواری کی طرف گیا اور وہاں جا کر پتہ نہیں اس نے کیا بات کہی کہ تھوڑی دیر میں آسمان پر بادل آ گئے اور سب نے دیکھا کہ چھم چھم بارش برسنے لگی۔ سب حیران تھے۔ چنانچہ جن علماء کو اس لڑکے کی بات کا پتہ تھا وہ اس کے پیچھے گئے کہ ہم پوچھیں کہ اس کی بات میں کیا راز تھا؟ جب اس سے جا کر پوچھا کہ اللہ کی یہ رحمت کیسے آئی؟ تو وہ کہنے لگا کہ اس سواری پر میری والدہ سوار ہیں۔ انہوں نے پاکیزہ زندگی گزاری۔ پاک دامنی والی زندگی گزاری۔ یہ عفیفہ زندگی گزارنے والی عورت ہے۔ جب مجھے پتہ چلا کہ آپ کی دعا قبول نہیں ہو رہی ہے تو میں ان کے پاس آیا اور ان کی چادر کا کونہ پکڑ کر دعا مانگی کہ اے اللہ، میں اس ماں کا بیٹا ہوں، جس نے پاک دامنی کی زندگی گزاری۔ اللہ! اگر آپ کو یہ عمل قبول ہے تو آپ رحمت کی بارش عطا فرما دیجئے۔ ابھی دعا مانگی ہی تھی کہ پروردگار نے رحمت کی بارش عطا فرما دی۔



















































