مجھے امریکہ میں ایک جگہ پر بتایا گیا کہ یہاں ایک خاتون ہے جو پہلے یہودی مذہب سے تعلق رکھتی تھی اوراب مسلمان ہو چکی ہے۔ وہ بڑی پکی مسلمان ہے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بہت خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھتی ہے۔ جب وہ نماز پڑھتی ہے تو اس میں ڈوب ہی جاتی ہے۔ وہ اہتمام سے وضو کرتی ہے۔ پھر وہ اپنے خاص کپڑے پہنتی ہے جو اس نے نماز کے لیے بنائے ہوئے ہیں۔
پھر وہ تعدیل ارکان کے ساتھ نماز پڑھتی ہے حتیٰ کہ مسلمان عورتیں اس کو دیکھ کر شرما جاتی ہیں اور صحیح معنوں میںدیندار بننے کی کوشش کرتی ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ کچھ مسائل پوچھنا چاہتی ہے۔ میں نے کہا، بہت اچھا! چنانچہ وہ پردے کے پیچھے بیٹھ کر انگلش میں گفتگو کرنے لگی۔ وہ مسائل پوچھتی رہی۔ اس نے تقریباً دو گھنٹے اسلام سے متعلق بڑے اچھے اچھے سوال کیے۔ واقعی اس کے دل میں علم حاصل کرنے کی طلب تھی۔ گفتگو کے دوران میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کون سا لمحہ تھا جب آپ کے دل کی دنیا بدلی اور آپ مسلمان بن گئیں؟ وہ کہنے لگی کہ میرے خاوند کی جدہ میں ملازمت تھی اور میں بھی اس کے ساتھ وہاں رہتی تھی۔ اس سے پہلے ہم دونوں امریکہ میں ایک دفتر میں کام کرتے تھے۔ دفتر والوں نے کہا کہ ہم نے جدہ میں ایک نیا دفتر کھولا ہے۔ اگر کوئی وہاں جانا چاہے تو ہم تنخواہ اور سہولیات بھی زیادہ دیںگے۔ اور انہیں ایک اور ملک دیکھنے کا موقع بھی مل جائے گا۔ ہم دونوں میاں بیوی تیار ہو گئے۔ چنانچہ اسی طرح ہم جدہ بھی پہنچ گئے۔ میں یہودی مذہب سے تعلق رکھتی تھی اور وہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ وہاں کچھ لوگوں کو دیکھتی کہ وہ سفید لباس پہن کر کہیں جا رہے ہوتے تھے۔ کبھی کاروں میں، کبھی بسوں میں، میں حیران ہوتی کہ یہ لوگ کہاں جاتے ہیں۔ چنانچہ میں ان کے بارے میں اپنے خاوند سے پوچھتی۔ وہ کہتا کہ یہاں مسلمانوں کا کعبہ ہے یہ وہاں جاتے ہیں۔
ایک مرتبہ میرے دل میں تڑپ پیدا ہوئی کہ ہم مسلمانوں کے کعبہ کو جا کر کیوں نہیں دیکھتے؟ وہ کہنے لگا کہ وہاں غیر مسلم نہیں جا سکتے۔ میں نے کہا کہ اگر ہم نہیں جا سکتے تو کم از کم کوشش تو کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں موقع دے دے۔ وہ کہنے لگی کہ اگلے دن میں نے مسلمان عورتوں جیسا ایک رومال لیا اور سر پر باندھ لیا اور میرے خاوند نے بھی سر پر ٹوپی کر لی اور ہم بھی اسی راستہ پر چل پڑے۔قدرتی بات ہے کہ وہ ایسا وقت تھا کہ جب ٹریفک پولیس والے کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے ایک بندہ چیک کرنے کے لیے کھڑا کیاہوا تھا۔ ٹریفک زیادہ تھی اور وہ چیک کرنے والا ایک بندہ تھا، وقت بھی رات کا تھا، لہٰذا وہ دور سے ہی سب کو جانے کا اشارہ کر رہا تھا۔ اس طرح ہم بھی اس ٹریفک میں آگے نکل گئے اور مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ ہم نے لوگوں سے پوچھا کہ مسلمانوں کا کعبہ کہاں ہے؟ انہوں نے حرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ہے۔ چنانچہ ہم حرم میں داخل ہو گئے۔ ہم چلتے چلتے جب مطاف میں پہنچے تو ہم نے بیت اللہ شریف پرنظر ڈالی، ہمیں وہاں اتنی برکتیں، اتنی رحمتیں اور اتنے انوارات نظر آئے کہ ہم دونوں کی نگاہیں وہاں ٹکی رہ گئیں۔ میں بھی رونے لگی اور میرا خاوند بھی رونے لگا۔ کچھ دیر تک ہم دونوں وہاں کھڑے روتے رہے۔ دل کی دنیا بدل چلی تھی۔ بالآخر ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہیں اس جگہ حقیقت ملی ہے اور میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہیں حقیقت ملی ہے
تو ہم دونوں نے کہا کہ ہاں حقیقت ملی ہے۔ چنانچہ اسی لمحے ہم دونوں نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گئے۔ ہمیں کسی مسلمان نے نہیں کہا کہ تم مسلمان ہو جائو بلکہ ہمیں اللہ کے گھر نے مسلمان بنایا ہے۔ سبحان اللہ! دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کو صرف بیت اللہ شریف کو دیکھنے سے ایمان کی دولت نصیب ہوئی۔



















































