جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ طواف کر رہا تھا۔ میں نے ایک جوان لڑکی کو دیکھا۔ وہ بڑے ہی عاشقانہ اشعار پڑھ رہی تھی۔ جیسے کوئی اپنے محبوب کے عشق میں ڈوبا ہوتا ہے اور محبوب کی ملاقات کے لیے بے قرار ہوتا ہے اسی طرح وہ بھی بے چینی میں آہیں بھر رہی تھی اور عاشقانہ اشعار پڑھ رہی تھی میں نے اس لڑکی سے کہا، اے لڑکی!
تو نوجوان ہے اور تجھے ایسے کھلے کھلے عاشقانہ اشعار پڑھنا زیب نہیں دیتا۔ اس نے میری طرف دیکھا تو کہنے لگی، جنید! مجھے یہ بتائو کہ تم بیت اللہ کا طواف کر رہے ہو یا رب البیت کا طواف کر رہے ہو؟ یعنی کیا تم گھر کا طواف کر رہے ہو یا گھر والے کا طواف کر رہے ہو؟ میں نے کہا کہ میں تو بیت کا طواف کر رہا ہوں جب میں نے یہ کہا تو وہ مسکرائی اور کہنے لگی ہاں جن کے دل پتھر ہوتے ہیں وہ پتھر کے گھر کا طواف کیا کرتے ہیں۔ کچھ وہ لوگ ہوتے ہیں جو گھر کو دیکھ کر آتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو گھر والے کی تجلیات کو دیکھ کر آتے ہیں۔ اسی لیے حج کے بعد طواف کا نام ’’طواف زیارت‘‘ ہے جی ہاں قسمت والوں کو زیارت نصیب ہوتی ہو گی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی گھر بلائے اور ملاقات نہ کرے۔ کوئی خود آئے اور اگلا ملاقات سے انکار کر دے تو اور بات ہوتی ہے۔ بلا کر تو کوئی بھی ملاقات کرنے سے انکار نہیں کرتا جی ہاں! اللہ تعالیٰ نے خود ان الفاظ میںحج کے لیے بلایا۔ ’’اور ان لوگوں کے درمیان حج کا اعلان کر دو۔‘‘ (الحج) میرے پیارے ابراہیم! دو اذان، کرو اعلان کہ آئو میرے بندو حج کے لیے، جب اس محبوب نے بلایا ہے تو اپنا دیدار بھی عطا کرتا ہو گا۔ واہ میرے مولا! وہ بہت ہی عجیب جگہ ہے وہاں پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات بارش کی طرح چھم چھم برس رہی ہوتی ہیں۔



















































