چند سال پہلے کی بات ہے کہ پاکستان میں ہی ایک ایسا مالدار آدمی تھا کہ اگر وہ چاہتا تو وہ پاکستان سے جا کر روزانہ عمرہ کر سکتا تھا۔ وہ درجنوں دفعہ یورپ اور امریکہ تو گیا ہے لیکن اسے حج کی توفیق نہ ملی۔ وہ مجھے ملا تو میں نے پوچھا کہ آپ حج اور عمرہ سے محروم کیوں ہیں؟ خیر اس نے حج کرنے کی آمادگی ظاہر کر دی۔ جب حج کرنے کا موقع آیا تو انکم ٹیکس میں الجھ گیا، جس کی وجہ سے نہ جا سکا
بعد میں ملا تو پوچھا، بھئی! حج پر کیوں نہیں گئے؟ وہ کہنے لگے، جی میں انکم ٹیکس میں الجھ گیا تھا۔ میں نے کہا الجھ نہیں گئے تھے الجھا دیے گئے تھے۔ لہٰذا توبہ کرو۔ ایک سول انجینئر صاحب تھے۔ وہ ریٹائرڈ ہوئے تو ہم نے اسے ترغیب دی کہ آپ پر حج فرض ہے کیونکہ آپ ذی حیثیت ہیں لہٰذا آپ اپنا فرض پورا کریں۔ آپ اب تو بڑی آسانی سے جا سکتے ہیں کیونکہ آپ کی عمر پینسٹھ سال ہے۔ چنانچہ اس نے حج کے لیے درخواست دے دی۔ اس کی درخواست منظور ہو گئی اور اسے گروپ لیڈر بنا دیا گیا۔ اطلاع آئی کہ فلاں تاریخ کو آپ کی فلائٹ ہے، پاسپورٹ بنا ٹکٹ بنی اور پاسپورٹ پر ویزہ لگ گیا۔ روانگی سے دو دن پہلے اس کا بڑا بھائی اس سے ملنے آیا۔ اس نے مل کر اسے کوئی ایسی زہریلی بات کہی کہ اس بندے نے حج پرجانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ ہم نے اسے بڑا سمجھایا کہ بھئی! چلے جائو۔ وہ کہنے لگا کہ اب تو نہیں جائوں گا۔ البتہ اگلے سال چلا جائوں گا۔ اللہ تعالیٰ کی شان کہ اس کی ٹکٹ پر لکھا ہوا تھا کہ اسے فلاں تاریخ کو جانا ہے اور فلاں تاریخ کو آنا ہے وہ آدمی نہ گیا۔ لیکن جس تاریخ کو اسے واپس آنا تھا اس تاریخ کے تین دن بعد اس کو ہارٹ اٹیک ہوا اوروہ اس دنیا سے چلا گیا۔ اگر وہ حج پر چلا جاتا، جیسے ہم نے اس کو تجویز دی تھی تو اس کے پچھلے گناہ بھی معاف ہو جاتے اور حج سے واپس آ کر تین دن بعد تو اس کا جانا مقدر تھا اس طرح وہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر دنیا سے رخصت ہو جاتا۔



















































