گرمیوں کا موسم تھا اور اتنی گرمی تھی کہ پرندے بھی درختوں کے سایہ میں چھپ کر بیٹھ گئے تھے اور ہو کا عالم طاری تھا۔ سورج آگ برسا رہا تھا۔ باہر کوئی ذی روح نظر نہیں آرہا تھا۔ اتنے میں مجھے کسی ضروری کام کی وجہ سے نکلنا پڑ گیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان جو دونوں ٹانگوں سے معذور ہےوہ اپنی سرین کے بل زمین کے اوپر گھسٹتا گھسٹتا آ رہا ہے۔ میں بڑا حیران ہوا۔
جب قریب آیا تو میں نے دیکھا کہ اس کا چہرہ گرمی کی وجہ سے سرخ ہو چکا تھا اور کپڑے پسینے میں شرابور تھے۔ میں نے سلام کیا، اس نے جواب دیا، تعارف ہوا، پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو۔ جواب دیا کہ میں حج کے لیے جا رہا ہوں میں نے اسے کہا کہ دیکھو تم میرے گھر کے اندر تھوڑا آرام کر لو۔ جب گرمی ذرا کم ہو گی عصر کے وقت تو پھر چل پڑنا۔ وہ کہنے لگا مالک بن دینار آپ تو پائوں کے بل چلتے ہیں، سفر جلدی طے ہوتا ہے میں تو سرین کے بل گھسٹ گھسٹ کر چل رہا ہوں مجھے وقت زیادہ لگت ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ ایسا نہ ہو کہ سفر لمبا ہے مجھے وقت زیادہ لگ جائے اور کہیں حج کے ایام ہی نہ نکل جائیں، اس لیے میں راستے میں رک نہیں رہا۔ میں نے کہا، اے اللہ کے بندے! تم رک جائو، ہم سواری کا بندوبست کر دیتے ہیں۔ تم بجائے پیدل جانے کے سواری پر سوار ہو کرچلے جائو۔ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ کہا تو اس نوجوان نے غصے کی نظر سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا کہ مالک بن دینار میں تمہیں عقلمند سمجھتا تھا، آج پتہ چلا کہ تم عقل سے بالکل عاری ہو، میں نے کہا وہ کیسے؟ عرض کیا کہ تم بتائو اگر کسی غلام نے اپنے مالک کا جرم کیا ہو، نافرمانی کی ہو اور پھر وہ سوچے کہ میں اپنے مالک کو منانے کے لیے جائوں۔ اب مجھے بتائو کہ اس غلام کو سوار ہو کے جانا اچھا لگتاہے یا پیدل؟ اپنے مالک کی خدمت میں تو عاجزی کے ساتھ پیش ہونا اچھا لگتاہے۔
مالک بن دینار فرماتے ہیںکہ مجھے اس کی بات نے حیران کر دیا۔ خیروہ تو چلا گیا اور میں بات بھول گیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اسی سال حج کیا اور میں جب شیطان کو کنکریاں مار کر واپس لوٹا میں نے دیکھا کہ ایک جگہ مجمع ہے۔ میں نے پوچھا کیا ہے وہ کہنے لگے کہ ایک نوجوان اللہ سے دعائیں مانگ رہا ہے اور اس کی دعائیں ایسی عشق و محبت میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ لوگ کھڑے سن رہے ہیں، میں نے کہا کہ ذرامجھے بھی دیکھنے دو۔ کہتے ہیں راستہ لیا، جب دیکھا تو وہی نوجوان دعائیں کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا۔
اے اللہ! تیری مہربانیاں شامل حال ہوئیں، میں نے تیرے گھر کا بھی طواف کیا، حجر اسود کو بھی بوسہ دیا۔ میں نے مقام ابراہیم پر بھی سجدے کیے۔ غلاف کعبہ کو پکڑ کر بھی دعائیں مانگیں۔ اللہ وقوف عرفات میں بھی حاضر ہوا۔ مزدلفہ میں بھی حاضر ہوا۔ اے مالک! میں نے شیطان کو کنکریاں مار کے اپنی دشمنی اور نفرت کا اظہار کر دیا۔ اے اللہ! اب قربانی کا وقت آ گیا۔ یہ اردگرد سب ذی استعداد لوگ کھڑے ہیں۔ یہ جائیں گے اور جانوروں کو قربان کریں گے۔ اور مالک تو جانتا ہے کہ میرے پاس تو احرام کے کپڑوں کے سوا کچھ اور نہیں۔
اے اللہ! آج میں اپنی جان آپ کے نام پر قربان کرنا چاہتا ہوں۔ میرے مالک میری اس قربانی کو قبول کر لیجئے۔ کہتے ہیں مجمع کے سامنے اس نے یہ بات کہی، کلمہ پڑھا اور اس کی روح پرواز کر گئی۔ اللہ کے چاہنے والے ایسے بھی گزرے ہیں۔ اللہ کی محبت میں جان دینے والے اور اللہ کے نام پر جان دینے والے۔



















































