ایک آدمی کی بڑی تمنا تھی کہ شیطان سے میری ملاقات ہو اور اس سے بات کروں۔ ایک دفعہ اس کی ملاقات شیطان سے ہو گئی۔ اس کے پاس بڑے جال تھے۔ اس آدمی نے پوچھا، تم کون ہو؟ کہنے لگا، شیطان ہوں۔ اس کے جال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہ سارا کچھ کیا ہے؟ کس لیے لیے پھرتے ہو؟ کہنے لگا کہ یہ پھندے اور جال ہیں جن سے میں لوگوں کو پکڑتا ہوں۔ اس نے پوچھا، میرے لیے کون سا جال ہے؟
شیطان کہنے لگا کہ تیرے لیے کسی جال کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس نے کہا، واہ! میں ایسا بھی نہیں ہوں کہ جال کے بغیر تیرے ہاتھ آ جاؤں۔ شیطان نے کہا، اچھا دیکھ لینا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔اس کے بعد وہ آدمی اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں ایک دریا تھا۔ جب وہ دریا کے کنارے پہنچا تو کشتی جا چکی تھی۔ لہٰذا اس نے فیصلہ کر لیا کہ دریا عبور کرکے جاتا ہوں۔ کنارے پر ہی ایک بڑھیا آفت کی پڑیا جو ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی، لاٹھی لے کر بیٹھی رو رہی ہے۔ اور میں اکیلی ہوں، میں یہاں رہ بھی نہیں سکتی۔ میرے بچے گھر میں اکیلے ہیں، تو مجھے بھی کسی طرح ساتھ لے جا۔ میرے بچے تم کو دعائیں دیں گے۔ اس نے کہا، میں تجھے کیسے لے کر جاؤں؟ تم تو خود جاؤ گے ہی، میں تو ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوں، مجھے بھی کندھوں پر اٹھا کر لے جانا۔ اس نے کہا، نہیں میں نہیں لے جاتا۔ اس نے اسے بڑی دعائیں دیں اور کہا کہ تمہارا بھلا ہو گا۔ میرے بچے اکیلے ہیں۔ میں گھر پہنچ جاؤں گی تو وہ بھی آپ کو دعائیں دیں گے۔ اس کے دل میں اس بڑھیا کے بارے میں ہمدردی آ گئی۔ چنانچہ اس نے کہا، اچھا چلیں میں آپ کو اٹھا لیتاہوں۔ پہلے تو اس نے سوچا کہ میں کمر پر اٹھا لیتا ہوں۔ پھر کہنے لگا کہ کہیں پھسل نہ جائے، لہٰذا کہنے لگا کہ چلو میرے کندھوں پر بیٹھ جاؤ۔ وہ بڑھیا کو کندھوں پر بٹھا کر دریا کے اندر داخل ہو گیا۔
چلتے چلتے وہ جب دریا کے بالکل درمیان میں پہنچا تو بڑھیا نےاس کے بال پکڑ کر کھینچے اور کہنے لگی۔ اے میرے گدھے! تیزی سے چل، وہ آدمی حیران ہو کر پوچھنے لگا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں وہی ہوں جس نے تجھے کہا تھا کہ تجھے قابو کرنے کے لیے کسی بھی جال کی ضرورت نہیں ہے۔ اب دیکھ کہ تجھے میں بغیر جال کے کیسے پھنسایا۔ تجھے نظر نہیں آ رہا تھا کہ میں غیر محرم ہوں تو نے مجھے کندھوں پر کیسے بٹھا لیا تھا۔



















































