مجھے ایک صاحب ملے، کہنے لگے میں روزے رکھتاہوں وہ امریکن تھے میں نے کہا وہ کیوں؟ تم تو غیر مسلم ہو تم کیسے روزے رکھتے ہو؟ کہنے لگا کہ سال میں کچھ وقت انسان پر ایسا گزرنا چاہیے کہ وہ ڈائٹنگ کرے،جب ہم کچھ عرصہ کے لیے Digestive System کو فارغ رکھتے ہیں تو جسم کے اندر کچھ رطوبتیں ایسی ہوتی ہیں جو کہ ختم ہو جاتی ہیں،
بہت سی پیچیدہ قسم کی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں بھوکا رہنے سے Digestive system پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے اور بہتر طریقے سے کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے میں نے اور میری بیوی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم سال میں ایک مہینہ اس طرح روزہ رکھ کر ڈائٹنگ کیا کریں گے، میں نے اسے بتایا کہ یہ سنت ہے کہ ہر مہینے ایام بیض کے تین روزے رکھیں بالخصوص وہ لوگ جو غیر شادی شدہ ہوں وہ زیادہ روزے رکھیں، یہ بھوکا رہنا انسان کے اندر ڈسپلن اور صبر و ضبط پیدا کرتا ہے غیر شادی شدہ کو اس کی زیادہ تلقین کی گئی ہے تاکہ اس کی شہوانی قوت مناسب رہ سکے، آج کے غیر مسلم اس کے اندر مادی فائدہ دیکھ کر اس کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں فقیر نے سنت نبویؐ میں سو سے زیادہ ایسی مثالیں دیکھی ہیں کہ جن کو ہو بہو سائنس کی دنیا تسلیم کرتی ہے۔
ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے ایک مرتبہ سنا تھا کہ جو شخص بارہ رکعت نفل روزانہ پڑھے گا اس کے لئے جنت میں گھر بنایا جائے گا چنانچہ میں بارہ رکعت نفل روازنہ پڑھتی ہوں۔ اس کا یہ اثر ہوا کہ ان کے شاگرد اور بھائی عتبہ اور عقبہ کے شاگرد عمرو بن اویس اور عمرو کے شاگرد نعمان بن سالم سب اپنے اپنے زمانہ میں برابر یہ نمازیں پڑھتے رہے۔



















































