ایک رات ایک بزرگ کی تہجد کی نماز قضاء ہو گئی۔ انہوں نے اس کے افسوس کی وجہ سے صبح اٹھ کر اللہ کے سامنے گڑگڑا کر معافی مانگی۔ کچھ دنوں کے بعد پھر وہ رات کو سوئے ہوئے تھے۔ اس رات جہاد کی وجہ سے بہت زیادہ تھکاوٹ تھی۔
تہجد کی قضا ہونے کا وقت قریب تھا۔ کوئی آدمی آیا اور انہیں پکڑ کر جگایا اور کہنے لگا۔ جی آپ اٹھیں اور جلد سے نماز پڑھ لیں۔ تہجد کا وقت جا رہا ہے۔ وہ بزرگ اٹھ بیٹھے اور کہنے لگے تو تو میرا بڑا خیر خواہ ہے کہ عین وقت پر جگا دیا ہے۔ تمہاری مہربانی، یہ تو بتا کہ تو کون ہے؟ وہ کہنے لگا میں شیطان ہوں۔ انہوں نے کہا شیطان تو کسی کو تہجد کے لیے نہیں جگاتا تو نے مجھے کیسے جگا دیا۔ تم تو کسی کا بھلا نہیں چاہتے۔ وہ کہنے لگا، میں آپ کا بھلا آج بھی نہیں چاہ رہا ہوں۔ وہ بزرگ بڑے حیران ہوئے اور فرمایا کہ تو نے مجھے تہجد کے لیے جگایا ہے اور کہہ رہا ہے کہ بھلا میں نہیں چاہ رہا۔ وہ مردود ہنے لگا وجہ یہ ہے کہ جب آپ کی پہلی تہجد کی نماز قضا ہوئی تھی تو اس وقت آپ اتنا روئے تھے کہ آپ کو اس رونے پر اتنا اجر ملا کہ سالوں کی تہجد پر بھی اتنا اجر نہیں مل سکتا۔ آپ آج بھی سو گئے تھے۔ تہجد کا وقت جا رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر آپ آج بھی اتنا روئے تو آپ کو آج پھر اتنا اجر مل جائے گا۔ اس لیے میں نے بہتر سمجھا کہ آپ کو جگا دوں تاکہ آپ کو صرف ایک رات کی تہجد کا اجر ملے گا۔



















































