ایک دفعہ شیطان کی حضرت موسیٰؑ سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے پوچھا تو کون ہے؟ وہ کہنے لگا، میں شیطان ہوں۔ انہوں نے فرمایا، تم لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بڑے ڈورے ڈالتے پھرتے ہو۔ تمہارے تجربے میں کون سی بات آئی ہے؟ وہ کہنے لگا،
آپ نے تو بڑی عجیب بات پوچھی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں آپ کو اپنی ساری زندگی کاتجربہ بتا دوں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا، پھر کیا ہے بتا دے۔ وہ کہنے لگا، تین باتیں میرے تجربات کا نچوڑ ہیں۔1۔ پہلی بات یہ ہے اگر آپ صدقہ کرنے کی نیت کر لیں تو فوراً دے دینا کیونکہ میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ نیت کرنے کے بعد بندے کو بھلا دوں۔ جب میں کسی کو بھلا دیتا ہوں تو پھر اسے یاد ہی نہیں ہوتا کہ میں نے نیت کی تھی یا نہیں۔2۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب آپ اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ کریں تو اسے فوراً پورا کر دینا کیونکہ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں وعدے کو توڑ دوں۔ مثلاً کوئی وعدہ کرے کہ اے اللہ! میں یہ گناہ نہیں کروں گا تو میں خاص محنت کرتا ہوں کہ وہ اس گناہ میں ضرور مبتلا ہو۔3۔ تیسری بات یہ ہے کہ کسی غیر محرم کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھنا کیونکہ میں مرد کی کشش عورت کے دل میں پیدا کر دیتا ہوں اور عورت کی کشش مرد کے دل میں پیدا کر دیتا ہوں۔ میں یہ کام اپنے چیلوں سے نہیں لیتا بلکہ میں بذات خود یہ کام کرتاہوں۔



















































